- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ کا جواب مطلوب ہے ، یہ کہ دلالی کے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟دلالی یعنی کوئی شخص کسی کو مکان یا زمین وغیرہ دلواتا ہے تو جتنے میں وہ بیع ہوتی ہے تو بیچ کا آدمی یعنی دلال دونوں پارٹیوں سے ثمن کا دو فیصد وصول کرتا ہے ، آیا اس کا یہ رقم لینا صحیح ہے یا نہیں ؟ براہِ کرام رہنمائی کیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دلالی کی اجرت لینے کو فقہاء کرام رحمہم اللہ نے تعاملِ امت کی وجہ سے ضرورتاً جائز قرار دیا ہے، اس لیے اگر دلال جائز معاملہ میں اپنی محنت اور کام کے حساب سے اجرت طے کر لے تو طے شدہ اجرت لینا درست ہے۔ اور فیصد کے لحاظ سے تعیین کرنا بھی درست ہے، کیوں کہ اس سے ابہام اور جہالت ختم ہو جاتے ہیں۔دلالی کی یہ اجرت یک طرفہ طور پر (صرف بائع سے یا صرف مشتری سے) بھی لی جا سکتی ہے اور دو طرفہ طور پر ( بائع اور مشتری دونوں سے) بھی لی جا سکتی ہے۔دلال اگر بائع اور مشتری دونوں کے درمیان صرف واسطہ ہو، باقی خریدوفروخت کا معاملہ بائع اور مشتری خود سرانجام دیں تو اس صورت میں دلال دونوں سے اجرت لے سکتا ہے۔ لیکن اگر دلال دونوں کے درمیان محض واسطہ نہ ہو بلکہ بائع کی طرف سے وکیل بن کر خود مشتری کو فروخت کرے، تب وہ صرف بائع سے کمیشن(دلالی کی اجرت) لے سکتا ہے، مشتری سے نہیں۔ کیوں کہ اس صورت میں وہ دلال خود”عاقد” بن جائے گا، اور عاقد کے لیے اس شخص سے کمیشن لینا جائز نہیں ہوتا جس سے وہ معاملہ کر رہا ہو ۔ کیوں کہ کمیشن کسی اضافی خدمت کے عوض میں ہوتا ہے، اور عاقد ہونے کی حیثیت سے وہ کوئی اضافی خدمت فراہم نہیں کررہا، بلکہ محض سامان بیچ رہا ہے،اب وہ بس سامان کی قیمت وصول کرنے کا حق دارہے، اضافی اجرت کامستحق نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved