• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کرسمس کے موقع پر مبارک باد اور گفٹ دینے کا حکم

استفتاء

دسمبر کے مہینا میں نصاریٰ/کرسٹن حضرات کرسمس مناتے ہیں جو کہ نعوذ باللہ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ کے بیٹے کی پیدائش ہوئی ۔ بحیثیت مسلمان ہم یہ دن منانے کا سوچتے ہیں نہ ہی مبارک دینے کا۔ لیکن ہمارے اسکول، دفاتر اور ہسپتال وغیرہ میں جو کرسٹن ہیں بچے يا بڑے سب، کیا ہم اپنے ان ساتھی دوستوں کو کوئی تحفے تحائف دے سکتے ہیں؟کرسمس کی خوشی کی مبارک باد نہ دیں، لیکن ان کی دل جوئی اور خوشی کے لیےاس تاریخ میں یا اُس سے پہلے کوئی گفٹ دے دیں تو شرعاً یہ عمل کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کافر کا ہدیہ قبول کرنا اور انہیں ہدیہ عطا کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اس لیے عام حالات میں کافر کے ساتھ تحائف کا تبادلہ کرنے کی اجازت ہے۔آپ اپنے کرسٹن دوستوں کی دل جوئی اور ان کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی غرض سے تحائف دے سکتے ہیں، بالخصوص جب وہ کافر یا مشرک رشتہ دار یا پڑوسی بھی ہو ۔لیکن عیسائیوں کےمذہبی تہوار کرسمس کی مناسبت سے ان کو گفٹ دینا اور تحائف پیش کرنا خواہ کرسمس کے دن ہو یا کسی اور دن ہو، قطعاً جائزنہیں ہے۔کیوں کہ کرسمس کی مناسبت سے تحفہ دینا در حقیقت ان کے غلط عقیدے اور باطل نظریے کو تقویت فراہم کرنے کے مترادف ہے ، اور اس موقع پہ ہدیہ دینے سے ان کے کفریہ و شرکیہ عقیدہ کی تائید اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اور یہ چیزیں شریعت مبارکہ کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔تو یاد رکھیے کہ جس طرح کرسمس کی تقریب میں شرکت کرنا اور انہیں مبارک باد دینا جائز نہیں ہے، ایسے ہی اس موقع پہ تحائف دینا بھی جائز نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved