• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بیس رکعت تراویح کی عقلی دلیل کی وضا حت

استفتاء

عرض یہ ہے کہ حضرت بندہ نے 20 رکعات تراویح کے متعلق عقلی دلیل پر مشتمل ایک ویڈیو کلپ دیکھا ہے جس میں حضرت والا نے تین مقدمے باندھے تھے1: روزانہ کے فرض رکعات کی تعداد 20 ہے۔2: رمضان میں نفل غیر رمضان کے فرض کے برابر ہے۔3: قیامت میں فرضوں کی کمی کو نفلوں سے پورا کیا جائے گا۔اسکی مزید وضاحت مطلوب ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رمضان میں جو نفل پڑھے جاتے ہیں ان نوافل کا ثواب فرض کے برابر ہوجاتا ہے اورقیامت کے دن سب سے پہلے فرائض کا حساب ہوگا اس میں کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گااب فرائض کی کمی کو پورا کرنے والے نوافل بھی وہ ہونے چاہیے جو پڑھنے میں تو نفل ہوں لیکن اجر میں فرض کی طرح ہوں تبھی وہ فرائض کی کمی کو پورا کریں گےتو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں رمضان میں اتنے نوافل ادا کرنے چاہییں جتنے ہم فرائض پڑھتے ہیں۔اگر روزانہ فرائض آٹھ پڑھتے ہیں تو رمضان میں مزید نوافل [جس کو تراویح کہتے ہیں ]وہ آٹھ پڑھی جائیں تاکہ آٹھ کی کمی آٹھ سے پوری ہو جائے اور اگر روزانہ فرائض بیس رکعت پڑھتے ہیں تو رمضان میں زائد رکعت نوافل بھی بیس ہی پڑھے جائیں تاکہ وہ غیر رمضان کی بیس رکعا ت فرائض کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کافی ہو جائیں ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved