- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آج کل بارہ ربیع الاول کے دن چھٹی کرنے کا باضابطہ ماحول ہو گیا ہے، دیکھا جاتا ہے اس نسبت سے کچھ مدارس و مکاتب اسلامیہ بھی چھٹی کرتے ہیں اور اعلان یہ دیا جاتا ہے کہ بارہ ربیع الاول ہے اس لیے مدرسہ و مکتب کی چھٹی ہے اور ایسٹ ماحول میں جو مدارس یا مکاتب چھٹی نہیں رکھتے ان کو معیوب اور مجروح نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، خصوصاً ہمارے ممبئی میں یہ دستور عام ہے کہ بارہ ربیع الاول کو چھٹی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح کرنا شریعت میں درست ہے کہ کسی دن کو خاص کرکے مدارس و مکاتب کی چھٹی میں تعطیل کی جائے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شریعت مبارکہ کی طرف سے ہفتہ بھر کے کسی متعیّن دن یا مہینا بھر کی کسی مخصوص تاریخ میں تعطیل کا پابند نہیں بنایا گیا۔ کس دن تعطیل ہونی چاہیے، کس دن نہیں؟ اس کی تعیین شرعی چیز نہیں بلکہ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے۔ طبعی راحت، جسمانی سکون، انتظام میں بہتری اور دیگر کسی دینی یا دنیوی غرض سے اپنی صواب دید کے مطابق کوئی بھی دن تعطیل کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔ جیسے فقہاء کرام رحمہم اللہ نے یومِ جمعہ کی فضیلت ا ور نمازِ جمعہ کی اہمیت کے پیشِ نظر جمعۃ المبارک کے دن تعطیل کو ہر لحاظ سے بہتر اور موزوں قرار دیا ہے، تاکہ ایک مسلمان اپنے دنیوی مشاغل سے الگ ہو کر یکسوئی کے ساتھ عبادت کر سکے۔ہاں البتہ ہمیں شریعت بیضاء کی طرف سے اس بات کا پابند ضرور بنایا گیا ہے کہ ہم بہ حیثیت مسلمان اپنے شب و روز میں اسلامی تعلیمات اور شرعی احکامات پر عمل پیرا ہوں، خرافات، بدعات اور رسومات سے کوسوں دور رہیں اور کسی بھی غیر دینی کام کو دین اور شریعت کا حصہ بنا کر شامل نہ کریں۔اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ بارہ ربیع الاول یا دیگر کسی مخصوص دن میں چھٹی کو فرض یا واجب سمجھنا جائز نہیں، لازم اور ضروری سمجھے بغیر از خود یا کسی ملکی قانون کے پیشِ نظر یا کسی نقصان اور ضرر سے تحفظ کی خاطر محض چھٹی کر لینے میں حرج نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved