- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص نے کچھ عرصہ قبل زمین فروخت کی تھی۔خریدار نے ٹوکن کے طور پر دولاکھ دیا تھا اور باقی قیمت کے لیے تین ماہ کا وقت مانگا تھا۔ وقت پورا ہونے پر بائع نے مشتری کو خبردار بھی کیا کہ بقیہ قیمت دے کر زمین پر قبضہ کرلو۔ مشتری نے کچھ وقت اور مانگ لیا، بائع نے مشتری کی درخواست پر مزید وقت دے دیا۔لیکن اب جب کہ کئی سال گزر گئے ہیں مشتری ٹوکن کی رقم واپس مانگ رھا ہے۔ ہمارے معاشرے میں وقت گزرنے پر اگر بقیہ رقم ادا نہ کی جائے تو ٹوکن کی رقم ضبط کر لی جاتی ہے۔ اس ٹوکن کی رقم کا شرعی طور پر کیا حکم ہے ؟آیا وہ رقم واپس کی جائے گی یا بندہ خود رکھ سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس بارے میں اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی خرید وفروخت میں جو پیشگی رقم دی جاتی ہے وہ مبیع کی قیمت کا حصہ ہوتی ہے ،اگر کسی وجہ سے بیع مکمل نہ ہو تو وہ رقم مشتری کو واپس کرنا ضروری ہوتا ہے ۔لہٰذا صورت مسئولہ میں ٹوکن میں دی جانے والی رقم واپس کی جائے، اسے اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔(سنن ابی داود باب فى الْعُرْبَانِ حدیث نمبر 3504)
امام علی بن سلطان محمد القاری رحمہ اللہ (1014 ھ) لکھتے ہیں ۔قال الطيبي رحمه الله أي عن البيع الذي يكون فيه العربان في النهاية هو أن يشتري السلعة ويدفع إلى صاحبها شيئا على أنه أمضى البيع حسب وإن لم يمض البيع كان لصاحب السلعة ولم يرتجعه المشتري وهو بيع باطل عند الفقهاء لما فيه من الشرط والغرر”(مرقاۃ المفاتیح، باب المنہی عنہا ج 6 ص 76)
ترجمہ: علامہ طیبی رحمہ اللہ عربان کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک آدمی نے کوئی چیز خریدی اور بطور بیعانہ کے بائع کو کچھ رقم دے دی اور یہ شرط لگائی اگر بیع ہوگئی تو ٹھیک اگر بیع نہ ہوئی تو یہ رقم بائع کی ہوگی جو مشتری کو واپس نہیں کی جائے گی تو یہ بیع نہیں ہوگی کیوں کہ اس میں باطل شرط اور دھوکہ ہے ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved