- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کیا بغیر وضو کے اذان دے سکتے ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
افضل یہ ہے کہ با وضو اذان دی جائے اور مستحب بھی ہے بغیر عذر کے وضو کے بغیر اذان نہیں دینی چاہیے، لیکن اگر کبھی کسی وقت بلا وضو بھی اذان دے دی گئی تو مکروہ نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس کا دہرانا ضروری ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص عادت ہی بنا لے کہ ہمیشہ بے وضو ہی اذان دیتا رہے تو یہ مکروہ ہوگا۔“عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يؤذن إلا متوضئ»جامع ترمذی ۔کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاذان بغیر وضوء ،رقم الحدیث:200ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اذان باوضو شخص ہی دے
ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانهفتاوی شامی ۔کتاب الصلاۃ ،باب الاذان ،ج1ص392ترجمہ:
جُنبی کا اذان اور اقامت کہنا مکروہ ہے اور بغیر وضو والے کا اقامت کہنا مکروہ ہے اذان کہنا مکروہ نہیں ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved