- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مجھے اس مسئلے کا حکم بتلائیے کہ اگر کسی نابالغ بچے یا بچی کا نکاح اس کے باپ یا دادا کے علاوہ کوئی اور رشتہ دار چچا یا ماموں کرے تو اس نکاح کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر باپ دادا کے علاوہ کسی اور ولی نے نا بالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح کر دیا ہو تو اس میں دو صورتیں ہیں۔نمبر1: لڑکے کا نکاح کیا ہوایسی لڑکی کے ساتھ جس کا حق مہر اس کے مہرِ مثل سے بہت زیادہ مقرر کردیا ہو تو یہ نکاح نہیں ہوگا ۔ ہاں اگر اتنے مہر کے عوض کر دیا ہو جو مہرِمثل سے کم یا اس کے برابر ہو تو نکاح صحیح ہو جائے گا البتہ بلوغت کے بعد اسے اختیار ہوگا خوا ہ اس نکاح کو باقی رکھے یا حاکم وقت کے ذریعے ختم کرا دے ۔نمبر2: لڑکی کا نکاح ایسے لڑکے کے ساتھ کیا ہو جو ذات برادری میں کم درجے کا ہو یا مہر مثل سے بہت کم پر کر دیا ہو تو نکاح منعقد نہیں ہوگا ہاں اگر برابر درجے کے لڑکے کے ساتھ کیا ہو یا مہر مثل کے عوض کیا ہو تو نکاح منعقد ہوجائے گا البتہ بالغ ہونے کے بعد اس کو اختیار ہوگا اس نکاح کو باقی رکھے یا مسلمان حاکم وقت سے فسخ کرالے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved