• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

عورتوں کے لیے فجر کی نماز اذان کے فوراً بعد ادا کرنے کا حکم

استفتاء

رمضان المبارک میں بعض خواتین صبح کی اذان کے چند منٹ بعد ہی فجر کی نماز ادا کر لیتی ہیں، جبکہ بعض اہلِ علم کی رائے ہے کہ اذان کے بعد تقریباً بیس منٹ انتظار کرنا بہتر ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی عورت اذان کے فوراً بعد نماز ادا کر لے تو کیا اس کی نماز درست ہوگی؟ اور کیا اذان کے ساتھ ہی نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

واضح رہے کہ نماز کی ادائیگی کے لیے اصل شرط وقت کا داخل ہونا ہے۔ جب فجر کا وقت شرعاً داخل ہو جائے تو اس کے بعد نماز ادا کرنا درست ہے، خواہ اذان دی جا چکی ہو یا نہ دی گئی ہو۔ اذان کا بنیادی مقصد وقت کے داخل ہونے کا اعلان اور لوگوں کو باجماعت نماز کی طرف متوجہ کرنا ہے، نہ کہ نماز کے جواز کے لیے اسے شرط بنانا۔
لہٰذا خواتین جو اپنے گھروں میں نماز ادا کرتی ہیں، اگر وہ فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد اذان کے فوراً بعد نماز پڑھ لیں تو ان کی نماز صحیح اور ادا شمار ہوگی۔ البتہ بعض فقہاء نے مردوں کے لیے فجر کی نماز میں کچھ تاخیر (اسفار) کو افضل قرار دیا ہے، لیکن یہ افضلیت کا مسئلہ ہے، صحتِ نماز کا نہیں۔ عورتوں کے حق میں گھر میں اول وقت نماز ادا کرنا ہی مناسب اور باعثِ فضیلت ہے۔
علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
الأصل في مشروعية الأذان الإعلام بدخول الوقت.(رد المحتار على الدر المختار: ج1 ص383 کتاب الصلاة، باب الأذان)
ترجمہ: اذان کی مشروعیت کا اصل مقصد وقت کے داخل ہونے کی اطلاع دینا ہے۔اس تصریح سے معلوم ہوا کہ جب وقت داخل ہو جائے تو نماز جائز ہے، اور اذان محض اعلان ہے، کوئی مستقل شرط نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved