استفتاء
ہم دوماؤں کی اولاد ہیں۔ علیحدگی کے دوران والد صاحب نے کہا کہ میں نے مفتی صاحب سے پوچھ لیا ہے، میری جو جائیداد ہے اس کی مثال ایسے ہے جیسے میرے کندھے پہ رومال ہے، میری مرضی ہے جو چیز جس بچے کو دینا چاہتاہوں دے سکتا ہوں، یعنی میری مرضی ہے جس بچے کو زیادہ دیتا ہوں ، جس کو کم دیتا ہوں یاجس کو کچھ بھی نہیں دیتا ہوں ۔ جو جائیداد میں نے کمائی ہے اس پر صرف میرا حق ہے، میری زندگی میں میرے مال پر بچوں کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ میں نے میراث تقسیم نہیں کی ہے بلکہ اپنی وہ کمائی تقسیم کی ہے جو میں نے خود کمائی ہے ، اور یہ میں نے مفتی صاحب سے پوچھ لیا ہے۔دریافت یہ کرنا ہے کہ اپنی زندگی میں مال کی تقسیم وراثت کی طرح ہوتی ہے یا اس میں کچھ فرق ہوتا ہے؟ نیز والد محترم کا یہ بیان اور پھر مال کی تقسیم میں ایسا طریقہ کار کس حد تک درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہر انسان اپنی زندگی میں اپنے مال و زر کا خود مالک و مختار ہوتا ہے، وہ اپنے مال میں جو بھی جائز تصرّف کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ جب تک انسان زندہ رہے اس کےمال میں میراث جاری نہیں ہوتی، اس لیے اس کی زندگی میں اس کے مال میں کسی وارث کا کوئی حق نہیں ہوتا اور نہ ہی اولاد میں سے کوئی فرد اپنے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
وراثت کا تعلق اس مال کے ساتھ ہوتا ہے جو انسان اپنی موت کےوقت اپنی ملکیت میں چھوڑ جاتا ہے۔ اس مال میں شریعت نے حق داروں کے حصے مقرر کر دیے ہیں ، تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی مال میں کسی جائز کام کی وصیت نافذ کرنے کے بعد جو مال باقی بچ جائے اس میں سے ہر وارث کو اس کا طے شدہ حصہ دینا ضروری ہوتا ہے
اگر کوئی بندہ اپنی خوشی سے اپنی زندگی ہی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد کو تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً جائز ہے، لیکن اس کو وراثت نہیں کہا جاتا بلکہ یہ ہدیہ اور عطیہ کہلاتا ہے ۔
زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا صحیح طریقہ حسبِ ذیل ہے:
:1 سب سے پہلے اپنی ذاتی ضروریات کےلیے حسبِ ضرورت مال بچا کر رکھ لے تاکہ آئندہ محتاجی نہ ہو۔
:2 اپنی اہلیہ (اگر حیات ہوتو) کے لیے کچھ مال الگ کر لے، بہتریہ ہے کہ اس کو آٹھواں حصہ دے دے، تاکہ اسے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
:3 اس کے بعد باقی مال اپنی تمام اولاد کے درمیان بیٹوں اور بیٹیوںمیں فرق کیے بغیر برابر تقسیم کیا جائے، یہ افضل اور بہتر صورت ہے۔ ہاں اگر وراثت کی تقسیم کے مطابق بیٹوں کو دوہرا(ڈبل) اور بیٹیوں کو اِکہرا(سنگل) حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔
:4 بِلا وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دے۔ اگر کوئی معقول وجہ ہو مثلاً: اولاد میں سے کوئی نادار، مفلس، مستحق، غریب یا معذور ہو، یا فرماں برداری ، خدمت گاری، دین داری اور شرافت کسی میں زیادہ ہو اور اس بنیاد پر اس کو کچھ زیادہ مال دیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دیگر اولاد کونقصان اور ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو۔
:5 مال تقسیم کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر ہر ایک کے قبضہ میں اس کا حصہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس پر تصرف کر سکے۔ جائیداد صرف نام کرا دینے سے ہبہ تام نہیں ہو گا۔ ہاں اگر اولاد میں سے کوئی ناسمجھ یا نابالغ ہو تواس کے سمجھ دار اور بالغ ہونے تک والد اپنے قبضے میں اس کا حصہ رکھ سکتا ہے۔
درج بالا تفصیل سے واضح ہوا کہ آپ کے والد محترم کا یہ کہنا تو بالکل درست ہے کہ میری زندگی میں میرا مال میرے اختیار میں ہے، اس پر اولاد کا کوئی حق نہیں لیکن ان کا یہ کہنا درست نہیں کہ میری مرضی کسی کو دوں یا نہ دوں ، یا بلا وجہ کسی کو زیادہ دوں اور کسی کو کم۔ اگر زندگی میں اولاد کو نہیں دینا تو ان(آپ کے والد) کی وفات کے بعد شریعت خود ہر ایک کا حصہ طے کر دے گی، اگر زندگی میں دینا ہے تو پھر اس طریقہ کے مطابق دیا جائے جو اوپر مذکور ہوا ۔ کسی کو نوازنا اور کسی کو محروم کرنا شرعاً جائز نہیں۔
شریعت مطہرہ نے ہر طرح سے راہنمائی فرمائی ہے، بعض معاملات میں انسان کو پابند بنایا ہے اور بعض میں اسے اختیار دیا ہے، جہاں پابندی ہو اس پہ عمل کیا جائے اور جہاں جس حد تک اختیار ہو اسے استعمال میں لایا جائے۔ اپنی مرضی پر عمل کرتے ہوئے حدود سے تجاوز کرنا ناجائز عمل ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا