- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آپ نے فرمایا کہ محشر کے میدان میں انسان کے اعمال کو تولہ جائےگا اور یہ بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تولنے کی ہئیت کیا ہو گی کیونکہ تولنے کے لیے وجود کا ہونا ضروری ہے اور اعمال کا تو وجود نہیں ہے۔ اس لیے اس کی وضاحت بھی فرما دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اعمال کو میزان کے ذریعے تولا جائے گا۔ اعمال ؛ اعراض ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اجسام کو توڑنے پر قادر ہیں اسی طرح اعراض کو تولنے پر بھی قادر ہیں۔ آج کل کے دور میں اعراض کا تولا جانا بھی ہمارے مشاہدے میں ہے کہ بخار، ہوا کا پریشر، گرمی و سردی وغیرہ جو اعراض ہیں ان کے تولنے کے پیمانے بھی معرض وجود میں آ چکے ہیں۔ جب انسان مخلوق ہو کر اعراض کو تول رہا ہے تو اللہ تعالیٰ جو خالق اور قادر مطلق ذات ہے ان کو تولنے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved