• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اجینو موٹو “چائنیز نمک” کے استعمال کا حکم

استفتاء

اجینو موٹو جس کو “چائنیز نمک” بھی کہتے ہیں، کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ اس میں سور کے اجزاء پائے جاتے ہیں؟ اس بارے میں آپ کی کیا تحقیق ہے؟ کیا ہم اس نمک کا استعمال کر سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اجینو موٹو دراصل ایک جاپانی کمپنی اور برانڈ کا نام ہے جو “مونو سوڈیم گلوٹامیٹ” (Mono Sodium Glutamate) نامی کیمیکل بڑی مقدار میں بناتی ہے، جسے مختصراً ‘MSG’ یا کوڈ نمبر E621 سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ سوڈیم اور گلوٹامیٹ (ایک تیزاب جو انسانوں اور جانوروں کے جسم میں قدرتی طور پر بنتا ہے) کا مرکب ہے۔

اس نمک کے حرام ہونے کے بارے میں عوامی سطح پر مشہور ہونے کی ایک خاص تاریخی وجہ ہے۔ سن 2000 میں انڈونیشیا کے علمائے کرام نے جب اس کی تیاری کے طریقہ کار کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس میں ایک ایسا اینزائم (Enzyme) استعمال ہو رہا ہے جو خنزیر (سور) کے لبلبہ سے حاصل کیا گیا تھا۔ اس بنیاد پر اس وقت اسے حرام قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، بعد میں کمپنی نے اپنا یہ طریقہ کار تبدیل کر دیا، جس کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں اسے “حلال سرٹیفائیڈ” قرار دے دیا گیا ہے۔

اجینو موٹوکے استعمال کا عمومی حکم تو یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے اس کے اجزاء میں عام طور پر کوئی ایسی چیز نہیں پائی جاتی جو حرام ہو، لہذا حلال اشیاء سے تیار کردہ MSG حلال ہے۔ہاں اگر یہ نمک کسی غیر مسلم ملک سے درآمد کیا گیا ہو تو احتیاطاً اس پر “حلال سرٹیفکیٹ” دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر کسی جگہ اب بھی خنزیر کے اجزاء شامل کیے جاتے ہوں تو وہ حلال نہیں ہوگا۔اگرچہ شرعی طور پر یہ حرام نہیں، لیکن طبی بنیادوں پر حکومتِ پاکستان نے قانوناً اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اور ایک شہری ہونے کے ناطے اس قانون کا احترام لازم ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved