- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ(1) احرام باندھنے کے بعد اگر کان میں خارش ہو اور اس سے کان میں جو صابن کی خشکی ہوتی ہے وہ اتر جائے خارش کی وجہ سےتو اس سے دم یا صدقہ واجب ہوتا ہے یا نہیں ؟(2)حالتِ احرام میں تیل لگانے سے دم لازم ہوگا یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1):کان میں جو صابن کی خشکی ہوتی ہے وہ اتر جانے سے دم واجب نہیں ہوتا ۔(2):اگر کسی شخص نے خوشبو دار کریم، تیل یا شیمپو اور صابن وغیرہ بدن پر لگالی، اور ایک مکمل عضو پر یا بار بار اس کا استعمال کیا، تو اس پر ایک دم واجب ہوگا۔امام ابوبکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ (ت 458ھ ) روایت نقل کرتے ہیں :عن ابن عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہما أنہ کرہ شم الریحان للمحرم۔(السنن الکبریٰ للبیہقي رقم: 9187)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ریحان خوشبو کو محرم کے لیے نا پسند فرماتے تھے ۔ولو ادھن بدھن مطیب وہو ما ألقی فیہ الأنوار ۔کدہن البنفسج والیاسمین ،،،،،،وما اشبہ ذالک عضواً کاملاًفعلیہ دم وفی الاقل من عضوصدقۃ(کتاب المناسک۔ باب الجنایات و انواعھا )ترجمہ: اگرکسی نے خوشبو والے تیل کے ساتھ تیل ملایا جیسے بنفسج یاسمین ۔۔وغیرہ یا اس کی طرح خوشبو دار ہو اور اس کو مکمل عضو پر لگایا تو اس پر دم ہوگا اور اگر عضو سے کم حصہ پر لگایا تو صدقہ ہوگالہذا اگر تیل خوشبو والاہے تو سر پر لگانے سے دم لازم ہوگا اور اگر خوشبو والا نہیں ہے تو دم لازم نہیں ہوگا ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved