- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مسئلہ درپیش یہ ہے کہ ایک گاؤں کے ساکنان نے کچھ عرصہ قبل یعنی 2016 میں ایک مکان خریدا پھر کچھ مہینوں بعد اسی سے ملحق اور ایک مکان اس نیت سے خریدا کہ اس دوسرے مکان کی جگہ پر وضو خانہ و بیت الخلاء بنائیں گے، لیکن آج تک اسی دوسرے والے مکان میں عارضی طور پر نماز ادا کررہے ہیں اب مسجد کا تعمیری کام شروع ہونے لگا ہے تو اس جگہ پر وضو خانہ و بیت الخلاء وغیرہ بنانا درست ہے یا نہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عارضی طور پر نماز ادا کرنے سے وہ جگہ مسجد شرعی نہیں بنی،اس لیے اس پر شرعی مسجد کے احکام بھی لاگو نہیں ہوتے، لہٰذا اس جگہ پر جو چاہیں تصرف کر سکتے ہیں ۔ مناسب یہ ہے کہ وضو خانہ وغیرہ کی تعمیر سے قبل مسجد سے متعلق تمام افراد کو شرعی مسئلہ سے آگاہ کر کےاعتماد میں لے لیا جائے ، تاکہ شرعی مسئلہ سے لاعلم افراد بعد میں کوئی بدمزگی پیدا نہ کر یں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved