- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ حروفِ مقطعات کے بارے میں کہا گیا کہ ان حروف کا مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔تو میرا سوال یہ ہے کہ کل آپ نے بتایا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ جس نے یہ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو اس نے جھوٹ بولا۔ تو حروفِ مقطعات کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات کی کیا توجیہہ ہو گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس شکال کے حل سے پہلے ”غیب“ کی تعریف سمجھ لی جائے۔حضرت مولاناخلیل احمد سہارنپوری رحمتہ اللہ علیہ (ت1346ھ) لکھتے ہیں:فَإِنَّ الْغَيْبَ الْمُطْلَقَ فِي الْإِطْلَاقَاتِ الشَّرْعِيَّةِ مَا لَمْ يَقُمْ عَلَيْهِ دَلِيْلٌ وَّ لَا إِلٰى دَرْکِهٖ وَ سِيْلَةٌ وَّ سَبِيْلٌ.(المہند علی المفند: ص88)
ترجمہ: اصطلاحِ شریعت میں مطلق غیب وہی ہوتا ہے جس پہ کوئی دلیل نہ ہو اور وہ بغیر کسی واسطہ و وسیلہ کے حاصل ہو۔معلوم ہوا کہ اگر کسی کے بتانے سے کوئی خبر معلوم ہو جائے تو اسے ”علم غیب“ نہیں کہتے۔ ہاں اسے انباءِ غیب یا اخبار غیب کہہ دیتے ہیں۔اب اشکال کا حل سمجھیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ”غیب“ جاننے کا دعویٰ کرنے والوں کو جھوٹا کہا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر حروفِ مقطعات کا معنی جانتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جانتے ہیں جو ”علم غیب“ نہیں بلکہ اخبارِ غیب ہے۔ اس لیے ان دونوں میں کوئی منافات نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved