- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کیاباپ اپنے بیٹے کی ساس سے نکاح کر سکتا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس طرح نکاح کرنا جائز ہے۔علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد الحنفی المعروف ابن الہمام (ت861ھ) فرماتے ہیں:وَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً وَيَتَزَوَّجَ ابْنُهُ أُمَّهَا أوْ بِنْتَهَا لِأَنَّهُ لَا مَانِعَ. وَقَدْ تَزَوَّجَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ امْرَأَةً وَزَوَّجَ ابْنَهُ بِنْتَهَا.(فتح القدیر لابن الہمام: ج3 ص210 کتاب النکاح فصل فی المحرمات)
ترجمہ:اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اپنے بیٹے کا نکاح اس عورت کی ماں یا اس کی بیٹی سے کر دے کیو نکہ اس میں کوئی مانع نہیں۔ حضرت محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ نے بھی ایسا کیا تھا کہ ایک عورت سے خود نکاح کیا تھا اور اپنے بیٹے کا نکاح اس عورت کی بیٹی سے کر دیا تھا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved