- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ایک آدمی کا گمان تھا کہ روزہ 3:29 پر بند ہونا ہے جبکہ روزہ 3:27 پر بند ہواہے اس نے 3:28 پر پانی پی لیا آیا اس کا روزہ ہوا یا نہیں اور اس کو گناہ ہوگا یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر سحری کا وقت ختم ہونے پر کوئی چیز کھا پی لیا تو ایسی صورت میں روزہ نہیں ہو گا ایسی صورت میں صرف قضاء لازم ہو گی کفارہ نہیں ہوگا نیزایسی صورت میں گناہ نہیں ہو گا ۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے :تسحر علی ظن ان الفجر لم یطلع وھو طالع قضاہفتاوی عالمگیری ۔ کتا ب الصوم ،ج1ص194
ترجمہ:اگر کسی نے سحری کی اس گمان سے کہ سحری کا وقت ختم نہیں ہوا حالانکہ سحرہ کا وقت ختم ہو چکا تھا تو اس روزہ کی قضاء کرنا ہو گیواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved