- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میں نے دریافت یہ کرنا ہے کہ اجماع، اجتہاد ، قیاس اور استدلال کی تعریف کیا ہے اور ان میں کیا فرق ہے؟ ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کے سوال کا جواب ذیل میں ترتیب وار درج کیا جاتا ہے۔اجماع: امت ِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والتسلیم کے مجتہدین کا کسی زمانہ میں کسی بھی حکم شرعی پر اتفاق کر لینا “اجماع ” کہلاتا ہے ۔اجتہاد: نئے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے نصوص میں غور وفکر کرنے اور ان پیش آمدہ مسائل کی نظیر تلاش کرکے ان کا حل نکالنے کو ” اجتہاد” کہا جاتا ہے۔قیاس: علّت کے اشتراک کی وجہ سےنص سےثابت شدہ حکم کسی ایسی چیز پر لگانا جس کا حکم نص میں موجود نہ ہو، اس عمل کو “اجتہاد” کہتے ہیں۔ جیسے مکھی کے گرنے سے کھانا ناپاک نہیں ہوتا، یہ حکم نص سے ثابت ہے۔ اس کی علّت یہ ہے کہ اس کی رگوں میں گردش کرنے والاخون نہیں ہوتا۔ یہی علّت(خون کے گردش نہ کرنے والی) چونکہ مچھر ،بِھڑ اور جگنو میں بھی موجود ہے،لہٰذا ان کے گرنے سے کھانا ناپاک نہیں ہوگا ۔استدلال: اپنے کسی عقیدہ ، نظریہ یا کسی مسئلہ کے ثبوت پر نصوص پیش کرنا “استدلال “کہلاتا ہے۔فرق: اجماع میں وقت کے ماہرینِ فن کا اتفاق ہوتا ہے جب کہ اجتہاد ،قیاس اور استدلال میں اختلاف بھی ہوجاتا ہے ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved