• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا کے درست کلمات کیا ہیں؟

استفتاء

اذان کے بعد جو دعا پڑھی جاتی ہے(مقام محمود اور شفاعت والی) اس کے متعلق جو صحیح کلمات ہیں ، آپ ان کے بارے میں میری راہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (ت: 256ھ)  نےاپنی کتاب ” صحیح البخاری” میں  اذان کے بعد والی دعا کے بارے میں جو حدیث مبارک ذکر فرمائی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ”۔
(صحیح البخاری:  رقم الحدیث 614)
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  : جو شخص اذان کے کلمات سن کر یہ کہے: ” اے اللہ! اے اس دعوتِ کاملہ اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب؛  تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں  اس مقامِ محمود پر مبعوث فرما جس کا آپ نے ان سےوعدہ فرمایا ہے”  تو  اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہو گی۔
البتہ امام ابو بكر احمد بن الحسين بن علی البيہقی رحمہ اللہ (ت: 458 ھ)  کی  کتاب “السنن الکبریٰ” میں قوی سند کے ساتھ    ” إِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ”  (بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا)کے الفاظ کا اضافہ موجود ہے۔   یہ تفصیل میری کتاب “نماز اھل السنۃ والجماعۃ” میں موجود ہے۔  لہٰذا اذان کا جواب دینے کے بعد درودِ پاک پڑھ کر مذکورہ دعا پڑھنی چاہیے۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved