- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :1: کیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دادا عبد المطلب کے بیٹے ابو طالب نے اسلام قبول کیا تھا؟2: کیا آپ کے چچا ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نکاح سنت ابراہیمی کے مطابق پڑھایا تھا؟3: آپ کے چچا کا اور ابو لہب جو ابو طالب کی دوسری ماں سے بھائی تھےان کا دین کیا تھا؟اس معاملے میں میری رہنمائی فرما دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شق وارہر سوال کا جواب دیا جاتا ہے1: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب مسلمان نہیں ہوئے تھے۔دلیل نمبر 1:مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِسورۃتوبہ 113
ترجمہ:نبی اور دوسرے مومنین کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ وہ جہنمی لوگ ہیں ۔اس آیت کریمہ کے متعلق سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںأَنَّ أَبَا طَالِبٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْهُ فَنَزَلَتْ { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ } وَنَزَلَتْ { إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ }صحیح البخاری:رقم الحدیث3884
ترجمہ:جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت ان کے پاس ابوجہل بھی بیٹھاتھا آپ علیہ السلام نےفرمایا : اے چچا کلمہ پڑھ لو اس کلمے کے ذریعے اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے : اے ابوطالب ! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منحرف ہو جائیں گے ؟ وہ یہ بات مسلسل کہتے رہے حتیٰ کہ ابوطالب نے اپنی آخری بات یوں کی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے جب تک روکا نہ گیا، اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الجَحِيمِ﴾
دلیل نمبر2:اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَسورۃ القصص 56
ترجمہ:اے نبی ! آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو اچھی طرح جانتاہے۔یہ آیت کریمہ بالاتفاق ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جیسا کہ مشہور محدث امام نووی رحمہ اللہ( 676)ھ اور مشہور مفسر أبو البركات عبد الله بن أحمد بن محمود النسفي رحمہ اللہ ( 710)ھ فرماتے ہیںفقد أَجمع المفسرون علي انھا نزلت في ابي طالب(شرح صحیح مسلم للنووی۔ باب الدليل على صحة اسلام من حضره الموت۔تفسیرمدارک تحت ھذہ الآیۃ)ترجمہ:مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت کریمہ ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیںلم تختلف النقلة في أنها نزلت في أبي طالب(فتح الباری۔باب إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء)
ترجمہ:بیان کرنے والے اس بات میں اختلاف نہیں کرتے کہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئیچنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کے شان نزول کے متعلق فرماتے ہیںقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾صحیح مسلم رقم الحدیث 25
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے فرمایا :کلمہ پڑھ لو، میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا انہوں نے جواب دیا : اگر مجھے قریش یہ طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے کلمہ پڑھنے پہ آمادہ کر دیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾
دلیل نمبر3:عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِصحیح بخاری رقم الحدیث 3883
ترجمہ:سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام سے سوال کیا اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کا ساتھ دینے ،آپ کا دفاع کرنے کی وجہ سے آپ نے ابو طالب کو کوئی فائدہ دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! وہ اب جھنم کے با لائی طبقے میں ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہو تے۔دلیل نمبر4:عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُصحیح بخاری رقم الحدیث 3885
ترجمہ: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ کے چچا (ابوطالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شاید کہ ان کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور ان کو جہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صرف ٹخنوں تک ہو اور جس سے (صرف) ان کا دماغ کھولے گا۔دلیل نمبر5:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ، وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ“.صحیح مسلم رقم الحدیث212
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمیو ں میں سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے۔ وہ آگ کے جوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھو ل رہا ہو گا۔اس طرح کی روایات کے بارے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیںفهذا شأن من مات على الكفر فلو كان مات على التوحيد لنجا من النار أصلا والأحاديث الصحيحة والأخبار المتكاثرة طافحة بذلكالاصابۃ فی تمییز الصحابۃ رقم الترجمہ 10169
ترجمہ:یہ صورتحال تو اس شخص کی ہوتی ہےجو کفر پر فوت ہوا ہو اگر ابوطالب کی وفات ایمان کی حالت میں ہوتی تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے۔اور بہت سی احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں-ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوطالب کی وفات حالت ایمان میں نہیں ہوئی ۔2: شریعت ابراہیمی کے مطابق نہیں تھا بلکہ خطبہ پڑھا گیا اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصاف و کمالات بیان کیا گیا ۔ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بن اَسد کے مشورہ سے500 درہم مہر مقرر ہوا۔ بوقت نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال جبکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمرچالیس برس تھی۔آپ کا یہ پہلا نکاح تھا جو اعلان نبوت سےتقریبًا 15 سال پہلے ہوا۔3: اللہ تعالیٰ نے ابولہب کانام لے کر سورة مبارکہ میں اس کی اور اس کی بیوی کی مَذمت فرمائی۔اوراس سورة مبارکہ میں بالواسطہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ابولہب اور اس کی بیوی کبھی بھی اسلام قبول نہیں کریں گے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ (١) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ (٢) سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ (٣) وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ (٤) فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠” ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ نامراد ہوگیا ۔اُس کا مال اورجو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا اور(اُس کے ساتھ)اُس کی بیوی بھی لگائی بجھائی کرنے والی ،اُ س کی گردن میں مونجھ کی رسّی ہوگیاس سورة مبارکہ میں بالواسطہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ابولہب اور اس کی بیوی کبھی بھی اسلام قبول نہیں کریں گے۔ اور ان کی موت ذلت آمیز ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا حالانکہ یہ سورة مبارکہ ابولہب کی موت سے تقریباً10 سال پہلے نازل ہوئی تھی، اگر وہ اسلام قبول کرلیتا تو نعوذباللہ قرآن غلط ثابت ہو سکتا تھامگر ایسانہیں ہوا ۔ نیز ابو طالب نے بھی اسلام قبول نہ کیا تھا جیسا کہ اوپر تفصیل سے گزرا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved