- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا ہم لوگ قرآن کو پختہ کرنے کے لیے نفلوں میں سنا سکتے ہیں؟ نیز کس وقت سنا سکتے ہیں؟ کیا ظہر کی نماز کے بعد سنا سکتے ہیں؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جی ہاں، حفظِ قرآن کو پختہ اور مضبوط کرنے کے لیے نفل نمازوں میں قرآنِ کریم پڑھنا یا ایک دوسرے کو سنانا بالکل جائز ہے۔ اگر دو حافظ مل کر نفل یا اوابین وغیرہ کی نماز باجماعت پڑھنا چاہیں تاکہ ایک تلاوت کرے اور دوسرا سن کر یاد کرے، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ تاہم اس میں یہ شرط ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ اعلان کر کے لوگوں کو بلایا نہ جائے اور مقتدیوں کی تعداد بھی تین سے زیادہ نہ ہو۔جہاں تک وقت کا سوال ہے، تو مکروہ اوقات (یعنی طلوعِ آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت) کے علاوہ کسی بھی وقت نفل نماز پڑھ کر قرآن کریم کی دہرائی کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا ظہر کی فرض نماز اور سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد نفل کی نیت سے قرآنِ کریم پڑھنا یا سنانا درست ہے۔
واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved