• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غیر مقلد شخص کی امامت میں ادا کی گئی نمازوں کا شرعی حکم

استفتاء

حضرت ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا۔ ہماری مقامی مسجد میں جب ہمارے پیش امام صاحب تین چار دن کے لیے اپنے گاؤں چلے جاتے ہیں تو اس دوران محلے کا ایک غیر مقلد شخص امامت کروا دیتا ہے۔ ایسی صورت میں میں اس کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہوں۔حضرت رہنمائی فرما دیں کہ:1: کیا اس کے پیچھے پڑھی ہوئی نمازیں درست ہیں یا ان کو لوٹانا (دوبارہ ادا کرنا) ضروری ہے؟2: آئندہ ایسی صورت میں کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

غیر مقلدین؛ ہم سے کئی اصولی اور فروعی اختلافات کرتے ہیں۔ بعض غیر مقلدین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو معیارِ حق تسلیم نہیں کرتے، ائمۂ اربعہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور تقلید—جس کے وجوب پر امت کا اجماع ہے—کو بدعت یا شرک قرار دیتے ہیں۔ ان اسباب کی بنا پر اھل السنۃ والجماعۃ احناف کے نزدیک ایسے شخص کے پیچھے ادا کی گئی نماز لوٹائی جائے۔لہٰذا اب تک جو نمازیں اس طرح ادا کی گئی ہیں، وہ دوبارہ ادا کی جائیں۔آئندہ کے لیے حکم یہ ہے کہ حتی المقدور ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا نہ کی جائے۔ اھل السنۃ والجماعۃ احناف کے نزدیک ایسے امام کی اقتداء، جو تقلید کو شرک کہتا ہو یا بدعات میں مبتلا ہو مکروہِ تحریمیہے۔ نماز جیسی اہم عبادت کو مشتبہ حالت میں ادا کرنا درست نہیں، اس لیے جب مستقل امام موجود نہ ہوں تو کسی متقی، صالح اور صحیح العقیدہ شخص کو امامت کے لیے مقرر کیا جائے۔اگر ممکن ہو تو مسجد یا محلے کے ذمہ داران سے بات کر کے یہ انتظام کیا جائے کہ امام کی غیر موجودگی میں کوئی دوسرا باشرع اور صحیح العقیدہ شخص نماز پڑھائے، تاکہ تمام نمازیوں کی نماز بلا کراہت درست طور پر ادا ہو۔نیز اگر آپ خود امامت کے فرائض سرانجام دے سکتے ہوں تو خود نماز پڑھایا کریں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved