• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کھیلوں میں تعظیمی جھکاؤ کا شرعی جائزہ

استفتاء

پوچھنا یہ ہے کہ کراٹے کلاس کے شروع اور آخر میں معلم سب سے، سر اور پیٹہ کو ہلکا سا آگے جھکانے کو کہتا ہے۔ اس طرح اگر بہت زیادہ کیا جائے تو رکوع کے مشابہت ہو جاتی ہے ،جیسے بعض لوگ ادب میں کسی بڑے آدمی کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔کراٹے کا معلم یہ کہتا ہے کہ یہ ادب اور ڈسپلن کے لیے ہے ، اس سے رکوع الی غیر اللہ کا قصد نہیں ہوتا۔تو کیا اس طرح سر اور پیٹھ جھکانا صحیح ہو گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوال کے جواب میں دو امور قابلِ ذکر ہیں:1: اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی انسان، بادشاہ یا بڑے کے سامنے تعظیم کی نیت سے جھکنا حرام ہے۔ یہ عمل سراسر جہالت اور گمراہی پر مبنی ہے، کیونکہ جھکنا صرف اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لیے خاص ہے۔2: اگر جھکنے والے کی نیت عبادت یا خاص تعظیم کی نہ ہو، بلکہ وہ اسے محض ایک رسم یا کھیل کے ڈسپلن کے طور پر ادا کرے، تب بھی شرعی اعتبار سے یہ عمل شدید مکروہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ طریقہ غیر مسلموں (جیسے آتش پرست مجوسیوں وغیرہ) کا شعار ہے، اور اسلام ہمیں غیروں کی مشابہت سے روکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ بقولِ معلم اگرچہ اس جھکنے کا مقصد غیر اللہ کی عبادت نہیں، لیکن چونکہ یہ عمل احادیثِ نبویہ کی ممانعت اور غیر مسلموں کے طریقے سے مشابہت رکھتا ہے، اس لیے کراٹے کلاس میں اس طرح جھکنے سے مکمل اجتناب لازم ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved