- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عمراوربکر نے مل کر ایک بکری خریدی پچاس ہزار کی پچیس ہزارعمرنے دیے اورپچیس بکر نے اور طے یہ ہوا کہ عمر اس بکری کی دیکھ بھال چارہ وغیرہ ڈالے گا اب پوچھنا یہ ہے کہ اس میں سے جو نفع یعنی وہ بکری جو بچے دے گی جب انکو بیچا جاییگا تو وہ کس طرح تقسیم کریں گے آدھے آدھے یا کوئ اور صورت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جب دو افراد برابر رقم ملا کر کوئی جانور خریدیں تو وہ دونوں اس جانور میں برابر کے مالک شمار ہوتے ہیں۔ اس صورت میں بکری سے پیدا ہونے والے تمام بچے اور دیگر منافع بھی دونوں شریکوں کے درمیان ان کی سرمایہ کاری کے تناسب سے آدھے آدھے تقسیم ہوں گے۔ شریعت کے مطابق یہ طے کرنا درست نہیں کہ ایک بچہ ایک کا ہوگا اور دوسرا دوسرے کا بلکہ پیدا ہونے والے ہر ہر بچے میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے۔جہاں تک عمر کی دیکھ بھال اور چارے کے اخراجات کا تعلق ہے تو چونکہ بکری دونوں کی مشترکہ ملکیت ہے، اس لیے اس کے چارے اور علاج وغیرہ کا خرچ بھی دونوں پر ان کے حصے کے مطابق آدھا آدھا آئے گا۔ عمر جو محنت اور دیکھ بھال کر رہا ہے، وہ اس محنت کے بدلے دوسرے شریک (بکر) سے اس کے حصے کی حد تک مناسب اجرت لینے کا حق رکھتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved