• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

امام کو رکوع میں پا لینے کا مطلب

استفتاء

عرض یہ ہے کہ اگر امام رکوع میں ہو اور مقتدی آکر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو تو کب سمجھا جائے گا کہ اس کو رکعت مل گئی ہے؟اگر مقتدی کے رکوع میں جاتے ہی امام کھڑا ہو جائے تو وہ رکعت شمار ہو گی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر کوئی شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا اور دیکھا کہ امام رکوع میں ہے تو آنے والا شخص کھڑا ہونے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر اگر موقع ہے تو دوبارہ اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلا جائے اور اگر موقع نہیں ملا تو دوبارہ اللہ اکبر کہے بغیر رکوع میں جاسکتا ہے تکبیر تحریمہ کے بعد قیام کی حالت میں کچھ دیر ٹھہرنا ضروری نہیں ۔اگر امام کو عین رکوع کی حالت میں پا لیا اور رکوع میں شریک ہوگیا تو یہ رکعت مل گئی خواہ اس رکعت میں جانے کے بعد امام فوراً ہی رکوع سے اٹھ جائے اور اس کو رکوع کی تسبیح پڑھنے کا موقع بھی نہ ملے تب بھی یہ رکعت مل گئی ۔اگر اس کے رکوع میں پہنچنے سے پہلے امام رکوع سے اٹھ گیا تو اقتداء توصحیح ہوجائے گی لیکن یہ رکعت نہیں ملی ۔ امام کے سلام کے بعد اس مقتدی کو کھڑا ہوکر ایک رکعت پڑھنی لازم ہوگی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved