- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ لفظ “ان شاء اللہ ” اور ” انشاءا للہ” کو دونوں طرح لکھ سکتے ہیں یا نہیں؟کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ” انشاءا للہ” لکھنا درست نہیں کیونکہ اس کا معنی ہے اللہ کا پیدا کیا ہوا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ان شاء اللہ لکھنے کادرست طریقہ تو “ان شاء اللہ ”ہی ہے، (یعنی تینوں الفاظ کو جدا جدا لکھنا) اور ” انشاء اللہ” لکھنا اگر چہ عربی اِملاء کے قواعد کے مطابق درست نہیں ہے، مگر جو لوگ ”انشاء اللہ” لکھتے ہیں ان کے پیشِ نظر بھی اللہ کا پیدا کیا ہوا معنی نہیں ہوتا۔علامہ محمد امین ابن عابدین الشافی رحمہ اللہ (ت:1252ھ) لکھتے ہیں :“الخطأ المشهور أولی من الصواب المهجور”(فتاویٰ شامی،کتا ب الحظر والاباحہ ج8 ص 88)
ترجمہ: ایک لفظ غلط ہے مگر عوام میں رواج پاچکا ہے تو وہ اس بہتر سے درست ہے جسےلوگ چھوڑ چکے ہیں۔لہذا”انشاء اللہ” (یعنی ”ان” اور ”شاء” کو ملاکر انشاء) لکھنے کی بھی اجازت ہےلیکن ترجیح جدا جدا لکھنے کو دینی چاہیے۔ قرآن و حدیث میں اسی طرح الگ الگ الفاظ سے لکھنا منقول ہے ۔1. وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ (البقرۃ70)2. وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ (یوسف99)3. قَالَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاء َ اللَّه صَابِرًا وَلَا أَعْصِی لَکَ أَمْرًا –(الکہف69)4. سَتَجِدُنِی إِنْ شَاء َ اللَّه مِنَ الصَّالِحِینَ – (القصص27)ان آیات سے ثابت ہے کہ لفظ “ان شاءاللہ” لکھنا درست ہےکچھ احادیث بھی ہیں جن سے ثابت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بھی “ان شاءاللہ” لکھتے آئے ہیں۔۔1. فَقَالَ لَه رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّه عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَأَفْعَلُ إِنْ شَاء َ اللہ (صحیح بخاری ۔رقم : 4072. لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ یَدْعُوہَا فَأَنَا أُرِیدُ إِنْ شَاء َ اللَّه أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ – (صحیح مسلم۔ رقم: 295)3. إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌّ إِنْ شَاء َ اللَّه – (سنن ابی داؤد421)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved