- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
غلطی سے تراویح تین رکعت پڑھ لیں تو دوبارہ پڑھنی ہوگی؟جزاکم اللہ خیرا
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تراویح میں بھولے سے دو کی جگہ تین رکعتیں پڑھ لینے کی صورت میں حکم کا مدار دوسری رکعت کے قعدہ (بیٹھنے) پر ہے:
1. اگر امام دوسری رکعت کے بعد قعدہ کیے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا اور تین رکعتیں مکمل کر لیں، تو وہ نماز سرے سے فاسد (باطل) ہو گئی۔ ایسی صورت میں ان دو رکعتوں کا اسی وقت اعادہ (دوبارہ پڑھنا) ضروری ہے اور ان رکعات میں جتنا قرآن پاک پڑھا گیا تھا، اسے بھی دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا تاکہ ختمِ قرآن درست نماز میں شمار ہو۔ محض سجدہ سہو کرنا اس صورت میں کافی نہیں ہے۔2. اگر امام دوسری رکعت پر قعدہ کر چکا تھا اور پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا، تو پہلی دو رکعتیں تراویح کے طور پر درست تسلیم کی جائیں گی۔ اس صورت میں نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، البتہ تیسری رکعت میں جو تلاوت کی گئی تھی، اس کا اعادہ کر لیا جائے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:“وَلَوْ صَلَّى التَّطَوُّعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ وَلَمْ يَقْعَدْ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ، الْأَصَحُّ أَنَّهُ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ”.(الفتاویٰ الھندیۃ: ج3 ص 484)
ترجمہ: اگر نفل نماز (بشمول تراویح) تین رکعت پڑھی جائے اور دوسری رکعت کے اختتام پر قعدہ نہ کیا جائے، تو صحیح ترین قول یہ ہے کہ نماز فاسد ہو جائے گی۔شیخ الاسلام امام ابو بکر بن علی بن محمد الحداد یمنی الحنفی رحمہ اللہ (ت800ھ) لکھتے ہیں:“وَإِذَا فَسَدَ الشَّفْعُ وَقَدْ قَرَأَ فِيهِ لَا يُعْتَدُّ بِمَا قَرَأَهُ فِيهِ، وَيُعِيدُ الْقِرَاءَةَ؛ لِيَحْصُلَ الْخَتْمُ فِي الصَّلَاةِ الْجَائِزَةِ”.(الجوهرة النيرة: ج1 ص98)
ترجمہ: جب دو رکعتیں (شفع) فاسد ہو جائیں اور ان میں قراءت کی گئی ہو، تو اس قراءت کا اعتبار نہیں ہوگا اور قراءت کا اعادہ کیا جائے گا تاکہ قرآن کا ختم صحیح نماز میں حاصل ہو۔
واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved