- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میت کو زندہ لوگوں کا ایصال کیا ہوا ثواب صرف قبر میں کام آئے گا یا جب اعمال تولے جائیں گے تب بھی وہ ثواب اس کے اپنے کیے ہوئے اعمال میں شامل کر دیا جائے گا۔ جواب مرحمت فرمائیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایصالِ ثواب قبر، حشر بلکہ آخرت کے تمام مراحل میں نفع دے گا۔ اس لیے کہ بعض احادیث مبارکہ میں خاص مقامات پر ثواب پہنچنے کا ذکر ہے لیکن اکثر احادیث میں مطلقاً اور عمومی طور پر میت کو ثواب ملنے کا ذکر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ثواب آخرت کے تمام مراحل میں پہنچتا ہے۔ چند روایات پیش ہیں: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ.(صحیح البخاری : رقم الحدیث 1388)
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ اچانک فوت ہوگئی اور ا س نے کوئی وصیت نہیں کی اور میر اگمان ہے کہ اگر وہ بات کرتی تو صدقہ کرتی اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کو اس کا ثواب پہنچے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ہاں ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.
(صحیح مسلم: رقم الحدیث 3084)
ترجمہ: حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان مر جاتاہے تو اس کاعمل منقطع ہوجاتاہے سوائے تین اعمال کے مگر تین عمل صدقہ جاریہ ،ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو اور نیک اولاد جوا س کے لیے دعا کرتی ہے۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” سَبْعٌ يَجْرِي لِلْعَبْدِ أَجْرُهُنَّ بَعْدَ مَوْتِهِ وَهُوَ فِي قَبْرِهِ: مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا، أَوْ أَكْرَى نَهْرًا، أَوْ حَفَرَ بِئْرًا، أَوْ غَرَسَ نَخْلًا، أَوْ بَنى مَسْجِدًا، أَوْ تَرَكَ وَلَدًا يستَغْفِرُ لَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، أَوْ وَرَّثَ مُصْحَفًا(کتاب المصاحف لابن ابی داؤد: ص463)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات کام ایسے ہیں جن کا ثواب مومن بندے کو فوت ہونے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے جب کہ وہ قبر میں ہوتا ہے،۱…. عالم دین جس نے کسی کو علم سکھایا، ۲…. وہ نہر جسے اس نے جاری کیا، ۳…. کوئی کنواں کھدوایا، ۴…. کوئی درخت لگایا، ۵…. کوئی مسجد تعمیر کرائی، ۶…. اولاد چھوڑی جو اس کے فوت ہونے کے بعد اس کے لئے استغفار کرتی رہی، ۷…. قرآن کا نسخہ ہے جو اس نے دوسروں کے لئے وراثت میں چھوڑا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: تُرْفَعُ لِلْمَيِّتِ بَعْدَ مَوْتِهِ دَرَجَتُهُ. فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ شَيْءٍ هَذِهِ؟ فَيُقَالُ: وَلَدُكَ اسْتَغْفَرَ لَكَ “(الادب المفرد للبخاری: رقم الحدیث 36)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میت کا موت کے بعد ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے تو وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! یہ درجہ کیوں بڑھا؟ اس شخص کو جواب دیا جاتا ہے کہ تمہارے بیٹے نے تمہارے لیے مغفرت کی دعاکی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved