- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
1: کیا انگوٹھی پہننا سنت ہے؟2: انگوٹھی کس انگلی میں اور کس ہاتھ میں پہنی جائے اور کتنے گرام وزن کی ہونی چاہیے؟دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: انگوٹھی پہننا صرف جائز ہے، نہ سنت ہے نہ مستحب بلکہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق عام آدمی کے لیے افضل یہی ہے کہ اسے نہ پہنا جائے۔
علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:
وَتَرْكُ التَّخَتُّمِ لِغَيْرِ السُّلْطَانِ وَالْقَاضِي … أَفْضَلُ.
الدر المختار: ج6 ص361
ترجمہ: بادشاہ اور قاضی کے علاوہ کسی اور کے لیے انگوٹھی نہ پہننا افضل ہے۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) علامہ حصکفی رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
قَوْلُ الْمُصَنِّفِ “أَفْضَلُ” كَالْهِدَايَةِ وَغَيْرِهَا يُفِيدُ الْجَوَازَ.
رد المحتار: ج6 ص361
ترجمہ: مصنف کا یہ کہنا کہ بادشاہ اور قاضی کے علاوہ کے لیے انگوٹھی نہ پہننا افضل ہے یہ صاحبِ ہدایہ وغیرہ کے طرزِ بیان کی طرح ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انگوٹھی پہننا جائز ہے۔
[2]: انگوٹھی چھوٹی انگلی میں پہنیں خواہ دائیں ہاتھ کی ہو خواہ بائیں ہاتھ کی۔ علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وَلَا تُبَالِي بِخِنْصَرِك الْيَمِينِ أَوْ الشِّمَالِ.
رد المحتار: ج6 ص361
ترجمہ: انگوٹھی کو دائیں یا بائیں ہاتھ کی چھنگلی میں پہنا جا سکتا ہے۔
حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) نے دائیں یا بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے میں یوں تطبیق دی ہے:
ويظهر لي أن ذلك يختلف باختلاف القصد فإن كان اللبس للتزين به فاليمين أفضل وإن كان للتختم به فاليسار أولى.
فتح الباری: ج1 ص402 باب من جعل فص الخاتم فی بطن کفہ
ترجمہ: مجھے احادیث کے دیکھنےسے یہ بات معلوم ہوتی ہےکہ اگر زینت کے ارادہ سے پہنے تو دایاں ہاتھ اور اگر مہر کی نیت سے پہنے تو بایاں ہاتھ زیادہ موزوں ہے۔
وزن کے اعتبار سے دیکھ لیا جائے کہ انگوٹھی ساڑھے چار ماشے( 4.374 گرام) سے زیادہ وزن کی نہ ہو۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved