- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چھ (6) سال کی عمر میں اور رخصتی نو (9) سال کی عمر میں ہوئی۔ کم سنی کے اس نکاح پر اسلام دشمن حلقوں کی طرف سے کئی اعتراضات ہوتے ہیں۔ ان اعتراضات سے جہاں ان حلقوں کی اسلام دشمنی آشکار ہوتی ہے وہیں ان اعتراضات کو سن کر بعض سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں قدرے تفصیل کے ساتھ وضاحت فرمائیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس مسئلہ کو ہم”بوقتِ نکاح حضرت عائشہ کی عمر؛ ایک تحقیقی جائزہ“ کے عنوان سے ایک مضمون کی صورت میں بیا ن کرتے ہیں ۔ اس مضمون میں ہم ہر دو قسم کے ذہنوں کو سامنے رکھ کر ان اعتراضات اور شکوک و شبہات کو رفع کریں گے ۔ کہ یہ نکاح اس وقت کے حالات و واقعات کے مطابق بالکل درست تھا اور اس پر اعتراض کرنا کسی صورت درست نہیں ہے۔ نیز چند معروف اعتراضات کا بھی جواب دیا ہے۔
آسانی کی خاطر یہ مضمون تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
[۱]: بوقت نکاح و رخصتی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر
[۲]: کم عمر عورت سے نکاح تاریخ کے آئینے میں
[۳]: چند اعتراضات کے جوابات
نمبر1: کم عمر لڑکی بیوی بننے اور بچے کی ولادت کی صلاحیت نہیں رکھتی
نمبر2: اس نکاح میں حکمت کیا تھی؟
نمبر3: نو سال کی عمر کی لڑکی رخصتی کے قابل نہیں ہوتی
نمبر 4: نو سال کی عمر میں نکاح حکمِ قرآنی کے خلاف ہے
نمبر5: نو سال کی عمر کا نکاح قرآنی حکم کے خلاف ہے
نمبر 6: کم سنی کا نکاح عصرِ حاضر کے ساتھ میل نہیں کھاتا
تفصیل اگلے صفحات میں پڑھیے!
بوقتِ نکاح و رخصتی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر
بعض حلقوں نے کم سنی کے نکاح پر ہونے والے اعتراضات سے مرعوب ہو کر ان روایات کو صحیح نہیں مانا جن سے آپ رضی اللہ عنہا کی عمر بوقت نکاح چھ سال اور بوقت رخصتی نو سال ثابت ہوتی تھی یا پھر ان روایات کی بے بنیاد توجیہہ کی ہے۔ اس لیے ذیل میں اس موضوع سے متعلق صحیح و ثابت روایات پیش کی جاتی ہیں۔
[۱]: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِيْ فَوَفٰى جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا لَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتّٰى أَوْقَفَتْنِي عَلٰى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأُنْهِجُ حَتّٰى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهٖ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلٰى خَيْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ.
صحیح البخاری: رقم الحدیث 3894
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو اس وقت میری عمر چھ سال تھی۔ پھر جس وقت ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج کے ہاں ٹھہرے تو مجھے وہاں بخار ہو گیا۔ اس کی وجہ سے میرے بال جھڑ گئے۔ پھر جب کندھے تک لمبے ہوئے تو میری والدہ ام رومان میرے پاس آئیں۔ میں اس وقت اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے لے رہی تھی۔ میری والدہ نے مجھے زور دار آواز دے کر بلایا۔ میں ان کے پاس آئی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے مجھے کس لیے بلایا تھا؟ میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر کے دروازے پر پہنچ گئیں۔ میرا سانس اس وقت پھولا ہوا تھا۔ جب میرا سانس اپنی حالت پر آیا تو میری والدہ نے میرا سر اور چہرہ پانی سے دھویا۔ پھر مجھے ایک گھر میں لے گئیں۔ وہاں انصار کی کچھ خواتین پہلے سے ہی موجود تھیں۔ انہوں نے میرے بارے میں کلمات خیر کہے۔ میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کر دیا۔ ان خواتین نے میرا بناؤ سنگھار کر دیا۔ مجھے کسی بات کا علم ہی نہیں تھا کہ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میری والدہ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا اور میری عمر اس وقت نو سال تھی۔
[۲]: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي.
صحیح البخاری: رقم الحدیث 6130
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں تھی تو اس وقت اپنی سہیلیوں کے ساتھ گڑیوں سے کھیلتی تھی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوتے تھے تو میری سہیلیاں چھپ جایا کرتیں تھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں واپس بلاتے تو وہ پھر سے میرے ساتھ کھیلنے لگتی تھیں۔
[۳]: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ وَفِى سَهْوَتِهَا سِتْرٌ فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ فَقَالَ: “مَا هٰذَا يَا عَائِشَةُ؟” قَالَتْ: بَنَاتِى. وَرَأَىٰ بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ فَقَالَ: “مَا هٰذَا الَّذِى أَرَىٰ وَسْطَهُنَّ؟” قَالَتْ: فَرَسٌ. قَالَ: “وَمَا هٰذَا الَّذِى عَلَيْهِ؟” قَالَتْ: جَنَاحَانِ. قَالَ : “فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟” قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةٌ. قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتّٰى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ.
سنن ابی داؤد: رقم الحدیث 4934
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس تشریف لائے تو ان کی الماری کا پردہ ہوا سے ہٹ گیا جس کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ میری گڑیاں ہیں۔ انہی گڑیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو پروں والا کپڑے کا گھوڑا بھی نظر آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گڑیوں کے درمیان کیا چیز ہے؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ گھوڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس پر کیا بنا ہوا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ اس کے پر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا گھوڑے کے بھی پر ہوتے ہیں؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے پر تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کھل کھلا کر ہنسے کہ مجھے آپ کے دانت مبارک بھی نظر آئے۔
[۴]: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِىَ ابْنَةُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِىَ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِىَ ابْنَةُ ثَمَانَ عَشْرَةَ.
صحیح مسلم: رقم الحدیث 1442
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح 7 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ اس وقت ان کے ساتھ ان کی گڑیوں کو بھی بھیجا گیا تھا اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے ان کی عمر 18 سال تھی۔
اس حدیث کے الفاظ ”وَلُعَبُهَا مَعَهَا“ کے تحت علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (ت676ھ) لکھتے ہیں:
المراد هذه اللعب المسماة بالبنات التي تلعب بها الجواري الصغار ومعناه التنبية على صغر سنها.
شرح مسلم للنووی: ج5 ص128 کتاب النکاح باب تزويج الأب البكر الصغيرة
ترجمہ: متن کے لفظ ”لُعَبُهَا“ سے مراد ”بنات“ یعنی وہ گڑیاں ہیں جن سے چھوٹی بچیاں کھیلتی ہیں اور یہاں اس کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی کم عمری واضح ہو۔
[۵]: مشہور محدث امام ابو عمر یوسف بن عبد الله ابن عبد البر القرطبی المالكی (ت463ھ) اس پر اجماع نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
تزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة قبل الهجرة بسنتين هذا قول أبي عبيدة وقال غيره: بثلاث سنين وهي بنت ست سنين وقيل: بنت سبع وابتني بها بالمدينة وهي ابنة تسع لا أعلمهم اختلفوا في ذلك.
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبد البر: ج2 ص108
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح مکہ میں فرمایا تھا۔ ابوعبیدہ فرماتے ہیں کہ ہجرت کے دو سال قبل یہ نکاح ہوا تھا اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ہجرت سے تین سال قبل ہوا تھا۔ اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال کی تھی۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سات سال کی تھی۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گھر رخصتی ہوئی تو اس وقت ان کی عمر نو سال تھی۔ (ابن عبد البر کہتے ہیں:) مجھے اس بارے میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں۔
[۶]: حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی شافعی (ت774ھ) اس اجماع کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
“تزوجها وهي ابنت ست سنين وبنى بها وهي ابنة تسع” ما لا خلاف فيه بين الناس – وقد ثبت في الصحاح وغيرها – وكان بناؤه بها عليه السلام في السنة الثانية من الهجرة إلى المدينة.
البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: ج3 ص161
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی“ یہ ایسی بات ہے کہ اس بارے میں لوگوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ بات صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتب میں بھی ثابت ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی رخصتی ہجرت کے دوسرے سال ہوئی تھی۔
اجماع مستقل دلیل ہے اور امت کبھی غلط بات پر جمع نہیں ہو سکتی۔ حدیث مبارک میں ہے:
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْ قَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى ضَلَالَةٍ وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ.”
سنن الترمذی: رقم الحدیث 2167
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گاا ور اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے۔
ان صحیح السند روایات اور اجماع سے ثابت ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہا کی عمر بوقتِ رخصتی نو سال تھی۔
کم عمر عورت سے نکاح تاریخ کے آئینے میں
مختلف ادیان میں ایسی رہنما شخصیات اور پیشوا گزرے ہیں جنہوں نے کم عمر کی لڑکیوں سے شادی کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی نقطۂ نظر سے اس عمر کی لڑکی سے نکاح کرنا معمول کی بات تھی، اسے کوئی معیوب بھی نہیں سمجھتا تھا۔ چند حوالہ جات پیش ہیں:
عیسائیت:
[1]: عیسائیوں کی کتاب ”بائبل“ میں آج بھی یہ فقرہ موجود ہے:
But Save for yourselves every GIRL who has never slept with a man.
بائبل: کتاب کا نام گنتی، باب نمبر 31 آیت نمبر 17
ترجمہ: ”مگر ہر وہ لڑکی جو باکرہ ہے اس کو اپنے لیے محفوظ کر لو!“
اس سے معلوم ہوا کہ عیسائیت کی آج تک کی تعلیمات میں یہ بات موجود ہے کہ ازدواجی تعلق کےلیے باکرہ (بالغہ) ہونا کافی ہے۔اگر کوئی لڑکی بالغ ہو چکی ہو تو اس سے نکاح کرنا یہ بائبل کی رو سے بھی معیوب نہیں۔ اس لیے بائبل کے ماننے والوں کو کم از کم ایسا اعتراض کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
[2]: عیسائیوں کے کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم کا نکاح ان کی 12 سال کی عمر میں 99 برس کے جوسف (یوسف) سے ہوا تھا۔
[3]: سینٹ آگاسٹین (Saint Augustine) متوفیٰ 350 عیسوی نے جس لڑکی سے شادی کی اس کی عمر 10 سال تھی۔
[4]: راجا ریچرڈ دوم (KING RICHARD-II) متوفیٰ 1400 عیسوی نے جس لڑکی سے شادی کی اس کی عمر سات سال کی تھی۔
[5]: ہینری ہشتم ( HENRY 8 ) نے 6 سال کی لڑکی سے شادی کی تھی۔
[6]: امریکہ کی اسٹیٹ آف ڈیلیورا میں 1880 عیسوی میں لڑکی کی شادی کی جو کم سے کم عمر تھی وہ 8 سال تھی اور کیلیفورنیا میں 10 سال تھی۔
[7]: 1929 عیسوی سے پہلے تک برطانیہ میں، چرچ آف انگلینڈ کے وزراء 12 سال کی لڑکی سے شادی کر سکتے تھے۔
[8]: 1983 عیسوی سے پہلے کیتھولک کینان کے قانون نے اپنے پادریوں کو ایسی لڑکیوں سے شادی کرنے کی اجازت دے رکھی تھی کہ جن کی عمر 12 سال کو پہنچ چکی ہو۔
ہندو ازم:
[1]: ہندو ازم کی مقدس کتاب ”منوسمرتی“ میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر کے بارے میں لکھا ہے:
” لڑکی بالغ ہونے سے پہلے اس کی شادی کر دینی چاہیے۔“
منوسمرتی : باب 18گوتما ، فقرہ نمبر21
اسی کتاب کے باب ”واشستها“ (باب نمبر70) کے فقرہ نمبر 70 میں لکھا ہے:
”اس ڈر سے کے کہیں ایام حیض نہ شروع ہوجائیں باپ کو چاہیے کہ اپنی لڑکی کی شادی اسی وقت کر دے جبکہ وہ بے لباس گھوم رہی ہو کیونکہ اگر وہ بلوغت کے بعد بھی گھر میں رہے تو اس کا گناہ باپ کے سر ہو گا۔“
[2]: کتاب ” The Oriental, the Ancient and Primitive “ میں ہندوستان میں شادی کی عمر کے بارے میں لکھا ہے:
”ہندوستانی گھروں میں لڑکیاں بہت جلدی ہی بیاہ دی جاتیں تھیں۔“
نیز لکھا ہے:
”لڑکی کو اس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے اس کی شادی کر دینی ہوتی تھی۔ ہندو “لا” کے مطابق اور ملک کے رواج کے موافق لڑکی کے باپ پر یہ ضروری تھا کہ وہ بالغ ہونے سے پہلے اس کی شادی کر دے اگرچہ کہ رخصتی میں اکثر تاخیر ہوتی تھی جو تقریباً 3 سال ہوتی تھی۔“
The Oriental, the Ancient, and the Primitive p.208
[3]: انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ اِیتھکز میں لکھا ہے:
”جس کی بیٹی اس حالت میں بلوغت کو پہنچتی تھی کہ وہ غیر شادی شدہ ہو تو اس کے (ہندو) باپ کو گنہگار سمجھا جاتا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ لڑکی خود بخود ”سدرا“ (نچلی ذات ) کے درجہ میں چلی جاتی تھی اور ایسی لڑکی سے شادی کرنا شوہر کے لیے باعث رسوائی ہوا کرتا تھا۔“
[4]: انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ اِیتھکز میں ہے:
”منو کی سمرتی نے مرد اور عورت کے لیے شادی کی جو عمریں طے کی ہیں وہ اس طرح کہ لڑکا 30 سال کا اور لڑکی 12 سال کی یا لڑکا 24 سال کا اور لڑکی 8 سال کی… مگر آگے چل کر بھراسپتی اور مہا بهارتہ کی تعلیم کے مطابق ایسے موقعوں پر (ہندو) لڑکیوں کی جو شادی کی عمر بتائی گئی ہے وہ 10 سال اور 7 سال ہے جبکہ اس کے بعد کے شلوکاس میں شادی کی کم از کم عمر 4 سے 6 سال اور زیادہ سے زیادہ 8 سال بتائی گئی ہے اور اس بات کے بے شمار شواہد ہیں کہ یہ باتیں صرف تحریر میں نہیں تھیں (یعنی ان پر عمل بھی کیا جاتا تھا)“
انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ اِیتھکز: ص450
اُس وقت عربوں کا ماحول:
اس وقت کے عرب ماحول میں بھی کم عمری میں لڑکی کی شادی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن لوگوں نے آپ کے پیغام کو جھٹلایا تھا انہوں نے ہر طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ وہ ہر اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ جس سے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت پر وار کر سکیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو -نعوذ باللہ- کبھی وہ جادوگر کہتے تھے، کبھی -معاذ اللہ- جھوٹا کہتے، کبھی -نعوذ بالله من ذالك- مجنون کہتے تھےلیکن ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ کے نکاح کو لے کر اعتراض کریں یا طعنہ دیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس وقت ان کے معاشرے میں یہ عام سی بات تھی، کوئی ایسی عیب کی بات نہیں تھی کہ جس کو بنیاد بنا کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طعنہ دیتے۔
چند اعتراضات کے جوابات
﴿اعتراض نمبر 1﴾
کم عمری میں کوئی لڑکی؛ بیوی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس سے بچے کا پیدا ہونا نا ممکن ہے۔ تو شادی کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟
﴿جواب﴾
اس اعتراض کی کہ ”نو سال کی عمر میں کوئی لڑکی؛ بیوی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس سے بچے کا پیدا ہونا نا ممکن ہے “ ہمارے گرد و نواح کے کئی ایک واقعات تردید کرتے ہیں۔ زمانۂ سابق میں اور آج کے سائنسی دور میں یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ نو سال کی عمر میں لڑکی کا ماں بننا ممکن ہے۔ چند ایک حقائق حسب ذیل ہیں:
[1]: صحیح البخاری میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حسن بن صالح رحمہ اللہ (جو ثقہ، فقیہ اور صالح شخص ہیں۔ تقریب التہذیب) کا قول ذکر کیا ہے:
وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ: أَدْرَكْتُ جَارَةً لَنَا جَدَّةً بِنْتَ إِحْدَىٰ وَعِشْرِينَ سَنَةً.
صحیح البخاری: کتاب الشہادات، باب بلوغ الصبيان وشهادتهم
ترجمہ: حسن بن صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے پڑوس کی ایک لڑکی کو دیکھا کہ وہ اکیس برس کی عمر میں نانی بن گئی تھی۔
[2]: حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) نقل کرتے ہیں:
وقد ذكر الشافعي أيضاً أنه رأى جدة بنت إحدى وعشرين سنة وأنها حاضت لاستكمال تسع ووضعت بنتاً لاستكمال عشر ووقع لبنتها مثلُ ذلك.
فتح الباری لابن حجر: ج5 ص277 کتاب الشہادات، باب بلوغ الصبيان وشهادتهم
ترجمہ: امام شافعی رحمہ اللہ (اپنا چشم دید واقعہ) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو اکیس سال کی عمر میں نانی بن گئی تھی۔ ہوا یوں کہ اس عورت کو نو سال کی عمر میں حیض آیا، دسویں سال اس نے لڑکی جنی اور اس لڑکی کا حیض و حمل بھی اسی طرح وقوع پذیر ہوا جس کے نتیجے میں اکیس سال کی عمر میں وہ نانی کہلانے لگی۔
[3]: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ”ہند بنت معاویہ“ کی شادی نو سال کی عمر میں کی۔ حافظ ابو القاسم علی بن الحسن الشافعی المعروف بابن عساكر روایت نقل کرتے ہیں:
زوج معاوية بن أبي سفيان ابنته هندا من عبد الله بن عامر بن كريز وبنى له قصرا إلى جانب قصره وجعل بينهما بابا وأدخلت عليه وهي بنت تسع سنين.
تاریخ ابن عساکر: ج70 ص188
ترجمہ: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ”ہند“ کی شادی عبداللہ بن عامر بن کریز سے کرائی اور ان کا محل اپنے محل کے قریب بنوایا۔ ان دونوں محلوں کے درمیان ایک درواز ہ بھی رکھا۔ ہند بنت معاویہ کی رخصتی اس وقت ہوئی جب ان کی عمر نو سال تھی۔
[4]: عن عباد بن عباد الْمُهَلَّبِيُّ قال : أدركت فينا يعني المُهَالِبَة امرأة صارت جدة وهي بنت ثمان عشرة سنة ولدت لتسع سنين ابنة فولدت ابنتها لتسع سنين فصارت هي جدة وهي بنت ثمان عشرة سنة.
سنن الدار قطنی: ج3 ص323 رقم الحدیث 286
ترجمہ: عباد بن عباد مہلبی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم ”مہالبہ“ میں ایک عورت کو دیکھا جو اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی تھی۔ (اس کی صورت یہ ہوئی کہ) خود اس کو 9 سال کی عمر میں لڑکی پیدا ہوئی، پھر وہ لڑکی 9 سال میں لڑکےکی ماں بن گئی۔ یوں وہ عورت 18 سال کی عمر میں نانی بن گئی۔
[5]: امام ابو عاصم الضحاک بن مخلد الشیبانی فرماتے ہیں:
وُلِدتْ أمي سنة عشر ومئة، ووُلِدتُّ أنا في سنة اثنتين وعشرين.
سیر اعلام النبلاء: ج9 ص483
ترجمہ: میری والدہ 110 ہجری میں پیدا ہوئیں اور میں 122 ہجری میں پیدا ہوا۔
یعنی بارہ سال کی عمر میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کی والدہ کی شادی دس سے گیارہ سال کی عمر میں ہوئی ہو گی۔
[6]: ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ محمد بن اسحاق نے میری بیوی فاطمہ بنت منذر سے روایت نہیں لی ہے۔ اس ضمن میں وہ بتاتے ہیں کہ:
لقد دخلت بها وهي بنت تسع سنين وما رآها مخلوق حتى لحقت بالله عز و جل.
تاریخ بغداد للخطیب: ج1 ص 222
کہ میں نے فاطمہ بنت منذر سے شادی کی اور اس وقت فاطمہ کی عمر نو سال تھی ۔ شادی کے بعد اسے کسی شخص نے بھی نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل سے جا ملی (تو محمد بن اسحاق نے کیسے روایت لے لی؟ اس لیے محمد بن اسحاق غلط کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ سے روایت لی ہے)
[7]: امام ابو صالح عبد اللہ بن صالح (المعروف کاتب اللیث) کہتے ہیں:
عن رجل أخبره أن ابنة له حملت وهي بنت عشر سنين.
الکامل لابن عدی: ج4 ص206 رقم الترجمۃ 1015
کہ ایک آدمی نے مجھے بتایا کہ اس کی بیٹی دس سال کی عمر میں حاملہ ہوئی ۔
عبد اللہ بن صالح مزید کہتے ہیں:
أن امرأة في جوارهم حملت وهی بنت تسع سنين.
کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت نو سال کی عمر میں حاملہ ہوئی۔
[8]: سائنسی تحقیقات پر مبنی ایک ویب سائٹ ” livescience“ میں مرقوم ہے:
”لڑکیاں مکمل بلوغت کی عمر کو 9 سے 15 سال کی عمر کے درمیان کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں۔“
اس ویب سائٹ کا لنک یہ ہے:
http://www.livescience.com/1824-truth-early-puberty.html
[9]: 1998 عیسوی میں چھپنے والی ایک کتاب ”“
Women: An Historical, Gynecological and Anthropological compendium
کے صفحہ نمبر 563میں لکھا ہے:
”کسی بهی علاقے کی بچیوں کے ایام حیض کے شروعات اور ازدواجی بلوغت کی عمر کو پہنچنے میں اس ملک کا اوسط درجہ حرارت اہم کردار ادا کرتا ہے۔“
انگریزی الفاط یہ ہیں:
” The average temperature of the country is considered the chief factor with regard to Menstruation and Sexual Puberty”
[10]: ہندوستان میں ایک خبر شائع ہوئی کہ وکٹوریہ ہسپتال دہلی میں ایک سات سال سے کم عمر کی لڑکی نے ایک بچہ جنا ہے۔
الکامل لابن عدی: ج4 ص206 رقم الترجمۃ 1015
[11]: روزنامہ DAWN ( 29 مارچ1966ء) میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک 8 سال کی لڑکی حاملہ ہوئی اور اس نے 9سال کی عمر میں بچہ جنا ۔
[12]: روزنامہ جنگ کراچی ( 16اپریل 1986ء) میں ایک خبر مع تصویرکے شائع ہوئی تھی جس میں تھا کہ برازیل کی رہنے والی نو سال کی لڑکی جس کا نام ”ایلینس“ تھا اس نے ایک بچی کو جنم دیا تھا۔ پیدا ہونے والی بچی کی عمر اس وقت بیس دن تھی جب یہ خبر شائع ہوئی تھی۔
[13]: روزنامہ آغاز (یکم اکتوبر 1997ء) میں ایک خبر چھپی کہ ملتان کے قریب ایک گاؤں میں ایک آٹھ سالہ لڑکی حاملہ ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس خدشہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ زچگی کے دوران ہلاک ہو جائے گی۔
پھر 9دسمبر 1997ءکو اسی اخبار میں ایک دوسری خبر بھی چھپی کہ ”ملتان (آغاز نیوز) ایک آٹھ سالہ پاکستانی لڑکی نے ایک بچہ کو جنم دیا ہے۔ ڈاکٹروں نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ بچہ صحت مند ہے ۔“
ان حقائق وواقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بلوغ کے بعد نکاح کی صلاحیت پیدا ہونا اور اولاد کا پیدا ہونا یہ واقعاتی چیز ہے، اس کا انکار کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ نیز جن ممالک میں موسم ٹھنڈا ہوتا ہے وہاں بلوغت کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جہاں موسم گرم ہوتا ہے وہاں بلوغت جلد وقوع پذیر ہوجاتی ہے ۔ عرب ایک گرم ملک ہے ۔وہاں کی خوراک عموماً کھجور اور اونٹ کے گوشت پر مبنی ہوتی ہے ۔ گرم ملک اور پھر خوراک کا گرم ہونا یہ وہ عوامل ہیں کہ جن کے پیشِ نظر لڑکیوں کا جلد بالغ ہو جانا بعید از عقل نہیں۔ اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نو سال کی عمر میں رخصتی بھی ناقابلِ اشکال بلکہ ایک قابلِ قبول امر ہے۔
﴿اعتراض نمبر2﴾
اس نکاح کے پیچھے کیا حکمت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی کم سن لڑکی سے شادی کی جبکہ نکاح کے لیے بڑی عمر کی خواتین موجود تھیں۔
﴿جواب﴾
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا دائرہ کار تمام امت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی میں جہاں امت کے عقائد ونظریات کو درست کرنا تھا وہاں ان کا طرزِ زندگی، بود وباش اور رہن سہن بھی ٹھیک کرنا تھا۔
اس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و تلقین اور زبانی ہدایات سے بھی کام لیا اور خود اپنی زندگی بطورِ کامل و اکمل نمونہ کے امت کے سامنے پیش کی تاکہ لوگ آپ کے کام نمونۂ حیات کو دیکھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
عملی زندگی کے ان گوشوں میں سے بعض کا تعلق خالص مردوں کے ساتھ ہے اور بعض خالصتاً خواتین سے متعلق ہیں۔ ایسی صورت میں یہ بات ضروری تھی کہ خواتینِ اسلام کو گھریلو زندگی بتانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح فرمائیں۔ چنانچہ احکام ومسائل بتلانے کے اس مقصد کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی ایک عقد فرمائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں جہاں عمر رسیدہ خواتین؛ مطلقہ یا بیوہ موجود تھیں وہاں ضروری تھا کہ ایک کمسن خاتون بھی عقد میں ہونی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ
1: امت کے لیے مشعلِ راہ ہو کہ کم سن زوجہ سے حسنِ معاشرت کے اصول کیا ہیں؟ کم سن زوجہ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟
2: کم سن خواتین کے مسائل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر کے امت کو بتائے جائیں اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے وہی عورت موزوں ومناسب قرار پائے گی جو خود کم سن ہو۔
ان امور کی تکمیل کے لئے کم سن ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجہ کی قابلیت وصلاحیت کا پایا جانا بھی ضروری تھا جو ان احکام و مسائل کے سمجھنے میں ممد و معاون ہو سکے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا میں جو خدا دادصلاحیتیں اور قابلِ قدر خصوصیات تھیں حالات و واقعات شاہد ِعدل ہیں کہ وہ صرف آپ ہی کا حصہ تھیں، کسی اور میں یہ خصوصیات موجود نہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس قدر احکام و مسائل آپ رضی اللہ عنہاسے منقول ہیں کسی اور بیوی سے اس کا عشرعشیر بھی منقول نہیں ملتا۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہانے اپنی اس نو عمری میں کلام اللہ اور کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گہری بصیرت حاصل کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ، اعمال و ارشادات کا بہت بڑا ذخیرہ محفوظ رکھا اور اسے نقل و روایت کے ذریعہ امت کے حوالہ کر دیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے دوہزار دو سو دس (2210) مرفوع احادیث مروی ہیں۔ آپ کے اپنے آثار و اقوال اور استنباطات اس تعداد کے علاوہ ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے علاوہ صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی اتنی تعداد میں حدیث روایت نہیں کیں۔ اسی لئے تمام دنیائے اسلام بھی آپ کے فضل و کمال کی معترف ہے۔ چند اصحاب فضل وکمال کی شہادت پیش ہے:
(1): امام عطاء بن ابی رباح المکی التابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کانت عائشة رضی اللہ عنہا أفقه الناس وأعلم الناس وأحسن الناس رأيا فی العامة.
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: ج2 ص109
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں میں زیادہ سمجھدار، سب سے زیادہ علم والی اور عام طور پر نہایت پختہ رائے رکھنے والی تھیں۔
(2): امام ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ امام مسروق تابعی رحمہ اللہ فرماتے تھے:
رأيت مشيخة من أصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم الأکابر يسئلونها عن الفرائض.
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: ج2 ص109
ترجمہ: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے فرائض (میراث) کے مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔
(3): ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت عروہ بن زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے:
ما رأيت أحدا أعلم بفقه ولا بطب ولا بشعر من عائشة رضی الله عنها.
الاصابۃ فی تمییز الصحابہ لابن حجر: ج8 ص18
ترجمہ: میں نے کسی کو فقہ، طب اور شعر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ عالم نہیں پایا۔
(4): حافظ الحدیث اور جلیل القدر فقیہ امام ابو بکر محمد بن مسلم بن عبید الله القرشی الزہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لو جمع علم عائشة إلی علم جميع أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعلم جميع النساء لکان علم عائشة رضی اللہ عنہا أفضل.
تہذیب التہذیب لابن حجر: ج12 ص386
ترجمہ: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کا موازنہ باقی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور دیگر تمام عورتوں کے علم کے ساتھ کیا جائے تو پھر بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کا علم زیادہ نکلے گا۔
(5): مشہور تابعی ابوبردہ رحمہ اللہ اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے:
ما أشکل علينا أمر فسألنا عنه عائشة رضی اللہ عنہا إلا وجدنا عندها فيه علما.
الاصابۃ فی تمییز الصحابہ لابن حجر: ج8 ص18
ترجمہ: ہمیں جو بھی مشکل سے مشکل مسئلہ پیش آتا تو ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے اور انہی کے پاس اس مسئلہ کا حل پاتے تھے۔
ان وجوہات کے پیشِ نظر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی نکاح کے لیے موزوں تھیں۔
﴿اعتراض نمبر 3﴾
عورت کو خاوند کے پاس جانے کے لیے شادی وخلوت کی صلاحیت پیدا ہونا ضروری ہے۔ جسمانی مضبوطی کی حامل خاتون ہی خلوت اور بچے کی ولادت کے قابل ہو سکتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا میں نو سال کی عمر میں یہ صلاحیت کہاں پیدا ہوئی تھی؟
﴿جواب﴾
جیساکہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ عرب کی گرم آب وہوا اور وہاں کی عمدہ و خالص غذا سے جسمانی نشوونما میں جلد ترقی ہو جایا کرتی تھی۔ اس لیے نو سال کی عمر کی لڑکی میں اس صلاحیت کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ (چند نظائر بھی ماقبل میں پیش کیے جا چکے )
عام مشاہدہ ہے کہ ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قویٰ میں جس طرح غیرمعمولی ترقی واستعداد پیدا ہوتی ہے اسی طرح ان کے قدوقامت میں بھی بالیدگی ونشوونما کی خاص صلاحیت من جانب اللہ موجود ہوتی ہے۔ اس لیے ظاہری بات ہے کہ اس کم سنی میں وہ قوت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا میں پیدا ہوگئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لیے ایک عورت میں ضروری ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ نے ان کے خورد و نوش کے لیے ایسی چیزوں کا خاص اہتمام کیا ہوا تھا جو ان کی جسمانی نشوونما میں ممدومعاون ثابت ہوئیں۔
خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
أَرَادَتْ أُمِّى أَنْ تُسَمِّنِّى لِدُخُولِى عَلٰى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَيْهَا بِشَىْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتّٰى أَطْعَمَتْنِى الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ كَاَحْسَنِ السِّمَنِ.
سنن ابی داؤد: رقم الحدیث 3905
ترجمہ: میری والدہ نے میری رخصتی کی خاطر میری جسمانی ترقی کے لیے بہت سی تدبیریں اختیار کیں۔ آخر کار والدہ صاحبہ کی تدابیر میں سے ایک تدبیر سے مجھے خاطر خواہ فائدہ ہوا کہ میری والدہ مجھے ککڑی اور تازہ کھجور کھلانے لگیں تو میرے جسمانی حالات میں بہترین انقلاب پیدا ہو گیا۔
یہی وجہ ہے کہ امام ابو جعفر احمد بن سعید الداودی المالکی (ت402ھ) نے فرمایا ہے:
وَكَانَتْ قَدْ شَبَّتْ شَبَابًا حَسَنًا رَضِيَ اللَّه عَنْهَا.
شرح مسلم للنووی: ج5 ص128 کتاب النکاح باب تزویج الاب البکر الصغیرۃ
کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بہت عمدگی کے ساتھ سنِ شباب تک پہنچیں۔
اس کے ساتھ اس حقیقت کو بھی کبھی نظر انداز نہ کرنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خود ان کی والدہ نے خدمتِ نبوی میں رخصت کر کے بھیجا تھا۔ اہلِ عقل و انش پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ ماں کی نظر میں اس کی بیٹی سب سے زیادہ عزیز اور محبوب ہوتی ہے۔ اس لیے یہ بات ناممکن اور محال ہے کہ انہوں نے رخصتی کی صلاحیت واہلیت سے پہلے ہی ان کورخصت کر دیا ہو۔
﴿اعتراض نمبر4﴾
غیر مسلم حلقوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چھ سال کی عمر میں نکاح اور نو سال کی عمر میں رخصتی پر جب اعتراض ہوئے اور اس موضوع کو لے کر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو نشانہ بنایا گیا تو بعض ”محققین“ نے یہ ”تحقیق“ پیش کی ہے کہ نو سال کی عمر میں رخصتی کی جملہ روایات غلط یا تسامح پر مبنی ہیں۔ان حضرات نے یہ ”تحقیق“ پیش کی ہے کہ رخصتی کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک 19 سال تھی۔
ان لوگوں کے استدلال کا حاصل یہ ہے کہ
”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بہن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا طویل العمر صحابیات میں سے ہیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔ بڑی خدا رسیدہ ،عبادت گزار اور بہادر خاتون تھیں ۔ ان کی عمر تمام مؤرخین نے سو سال لکھی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں۔ سیدہ اسماء حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے پانچ یا دس دن بعد فوت ہوئیں۔ سن وفات 73ھ ہے۔ اس حساب سے سیدہ اسماء کی عمر ہجرت کے وقت 27 سال ہوئی اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں تو آپ کی عمر ہجرت کے وقت 17 سال ہوئی۔ اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی 2ھ کو مانی جائے تو رخصتی کے وقت آپ کی عمر مبارک 19 سال ہوئی…..
اسلمت اسماء قديما وهم بمکة فی اول الاسلام… وهی آخر المهاجرين والمهاجرات موتا. وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين… بلغت من العمر ماته سنة. اسماء مکہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مہاجرین مردوں عورتوں میں سب سے آخر میں فوت ہونے والی ہیں۔ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں۔“
البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: ج8 ص346 طبع بیروت
﴿جواب﴾
اس استدلال کی بنیاد اس بات پر ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی ہیں۔ اس حوالے سے چند امور ملحوظ رکھے جائیں:
[1]: صحیح البخاری و صحیح مسلم کی متفق علیہ روایات نیز امت کا اجماع اس بات پر شاہد ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک نکاح کے وقت چھے سال اور رخصتی کے وقت نو سال تھی۔ اس اتفاقی موقف کو محض ایک تاریخی روایت کی وجہ سے رد کرنا کہاں درست ہو سکتا ہے؟
[2]: رخصتی کے وقت کی عمر مبارک کے نو سال ہونے پر خود ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اتنی کثرت سے روایات مروی ہیں کہ ان کے مقابلے تاریخی بات (جو کہ مبہم و محتمل ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے) کوئی وقعت نہیں رکھتی۔
[3]: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کتنے سال بڑی تھیں اس بارے میں ”دس“ سال کا عدد کوئی حتمی بات نہیں۔ اس لیے کہ مفصل روایات میں دس کے ساتھ مزید الفاظ بھی ملتے ہیں۔
• امام ابو عمر یوسف بن عبد الله ابن عبد البر القرطبی المالكی (ت463ھ) لکھتے ہیں:
قالت أسماء بنت أبي بكر ، وكانت أكبر من عائشة بعشر سنين أو نحوها .
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: ج2 ص616
ترجمہ: حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال یا اس کے لگ بھگ سال بڑی تھیں ۔
• علامہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذھبی رحمہ اللہ (852ھ) ذہبی لکھتے ہیں:
وكانت أسن من عائشة ببضع عشرة سنة.
سير اعلام النبلاء للذہبی: ج2 ص288
ترجمہ: حضرت اسماء ؛حضرت عائشہ رضی اللہ عنہماسے دس سال اور [بضع] کچھ سال مزید بڑی تھی۔
”بضع“ کاا طلاق تین سے لے کر نو تک ہوتا ہے۔
عمروں کے تفاوت کی ان دو روایات سے معلوم ہوا کہ ”وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين“ (البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر) کی روایت یا اختصار ہے یا پھر راوی کا تسامح ہے۔ عمروں میں فرق 13 سال سے 19 سال تک کا ممکن ہے۔ اس لیے البدایۃ کی اس روایت کا مطلب وہی درست مانا جائے گا جو صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے میل کھاتا ہو۔
اس لیے صحیح فرق یہ بنتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر حضرت اسماء کی عمر سے کم از کم 19 سال کم ہو۔ اس صورت میں تطبیق یوں ہو گی کہ حضرت اسماء کا سن وفات 73ھ ہے اور وفات کے وقت ان کی عمر 100 سال تھی۔ یوں حضرت اسماء کی عمر بوقت ہجرت 27 سال ہوئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے لگ بھگ انیس سال چھوٹی ہیں تو آپ کی عمر ہجرت کے وقت 7، 8 سال ہوئی۔ پھر رخصتی ہجرت کے دوسرے سال ہوئی تو یوں آپ کی عمر مبارک نو، ساڑھے نو سال بنی ۔ یہ توجیہہ صحیحین کی روایت کے موافق ہے۔
[4]: ”البدایۃ والنہایۃ“ کی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے بارے میں مجمل روایت (وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين) کے بجائے خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالات میں پیش کردہ اجماع کو دیکھ لیا جاتا تو نو سال رخصتی والی روایت پر اشکال نہ ہوتا۔ صاحبِ ”البدایہ والنہایہ “ حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعی رحمہ اللہ (ت774ھ) اس اجماع کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
“تزوجها وهي ابنت ست سنين وبنى بها وهي ابنة تسع” ما لا خلاف فيه بين الناس – وقد ثبت في الصحاح وغيرها – وكان بناؤه بها عليه السلام في السنة الثانية من الهجرة إلى المدينة.
البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: ج3 ص161
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی“ یہ ایسی بات ہے کہ اس بارے میں لوگوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ بات صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتب میں بھی ثابت ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی رخصتی ہجرت کے دوسرے سال ہوئی تھی۔
خود علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی اس تصریح کے بعد مجمل روایت کے پیشِ نظر صحیحین کی روایت پر اشکال ختم ہو جانا چاہیے۔
﴿اعتراض نمبر5﴾
احمد سعید ملتانی صاحب صحیح البخاری کی روایت نقل کر کے اس کا ترجمہ و تبصرہ یوں لکھتے ہیں:
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ہوئی تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب بِنا فرمایا تو نو سال کی تھی۔ بھلا اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور کیا ہو گی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی تک نساء کی فہرست میں بھی داخل نہ ہوئی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنسی کھیل رچائیں اورطبع آزمائی میں مشغول ہو جائیں… پھر قرآن کریم کی اصطلاح کے بھی خلاف ہے کہ لڑکی کو نساء کہا جائے“
قرآن مقدس اور بخاری محدث از احمد سعید ملتانی: ص58
نعوذ باللہ من ذلک۔
احمد سعید ملتانی صاحب کے اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہے:
﴿فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ﴾
سورۃ النساء: 3
نکاح کے لیے اللہ نے لفظ ”نساء“ فرمایا ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کرو جو ”نساء“ ہو اور ”نساء“ کا لفظ عاقلہ بالغہ پر بولا جاتا ہے، چھ سال کی بچی ”نساء“ میں شامل نہیں ہوتی۔ اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے چھ سال کی عمر میں نکاح قرآن کے خلاف ہے۔
﴿جواب﴾
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
﴿وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہِ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ اَنۡجٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ﴾
سورۃ ابراہیم: 6
ترجمہ: (وہ وقت یاد کرو) اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ نے جو تم پر نعمت کی ہے اسے یاد رکھو کہ اس نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی ، جب وہ تمہیں تکلیف پہنچا رہے تھے، اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر رہے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے بچوں کے لیے ”ابناء“ کا لفط بولا ہے اور ”ابناء“ کے مقابلے میں بچیوں کے لیے”نساء“ کا لفط بولا ہے۔ ”ابناء“ سے مراد نابالغ بچے اور ”نساء“ سے مراد نابالغ بچیاں ہیں۔ ثابت ہوا کہ ”نساء“ کا اطلاق جس طرح بالغات پر بولا جاتا ہے اسی نابالغات پر بھی بولا جاتا ہے۔
تو صحیح البخاری کی روایت قرآن کے خلاف تب ثابت ہو گی جب ”نساء“ کا اطلاق صرف بالغ عورت پر ہی ہوتاہو لیکن سورۃ ابراہیم کی مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ نابالغ بچیوں کو بھی نساء کہنا درست ہے ۔ اس لیے صحیح البخاری کی یہ روایت قرآن مجید کے خلاف نہیں ہے۔
﴿اعتراض نمبر6﴾
آج کل کے معاشرے میں کم سنی کی شادی جدید ذہن کو لازماً ایک منفی تاَثر دیتی ہے۔ اگر بڑی عمر کا مرد کسی کم سن عورت سے شادی کرے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔اس کی وجوہات کئی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً
1: کم عمر عورت کے جذبات اور بڑی عمر کے مرد کے جذبات میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ عورت چاہتی ہے کہ اس کی زندگی کا ساتھی اس کا ہم عمر ہو لیکن بڑی عمر کے مرد کے ساتھ زندگی گزارنے میں اس کا یہ جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔
2: جدید ذہن اس طرح کی شادی کو سن کر وحشت محسوس کرتا ہے کہ یہ ”بے جوڑ“ شادی معلوم ہوتی ہے ۔
لہٰذا چھ سال کی عمر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی کچھ یہی صورت حال دماغ میں بٹھانے کا سبب بنتا ہے جو آج کل کے معاشرے میں میل نہیں کھاتا۔
﴿جواب﴾
یہ بات ہر صاحبِ عقل ودانش کو تسلیم کرنا ضروری ہے اور حکمت ومصلحت کا مقتضا بھی یہی ہے کسی بھی معاشرت، تہذیب و تمدن اور ثقافت کی مخصوص حساسیتوں کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ کسی ایک معاشرے کے رواج اور عرف کو معیار بنا کر کسی دوسرے معاشرہ کے رواج و عرف کو پرکھنے سے اس طرح کے تشویش کن خیالات کا رونما ہونا ایک یقینی امر ہے۔
اس لیے یہ بات کسی طرح درست نہیں کہ جدید معاشرتی تصورات کو معیار مان کر دوسرے معاشروں اور خاص طور پر عہد نبوی کی مسلم معاشرت بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں اور اقدامات کو بھی اس پر پرکھنا شروع کر دیا جائے اور ہر اس بات کی نفی کا طریقہ اختیار کر لیا جائے جو ثقافت، تمدن اور طرز معاشرت کے فرق کی وجہ سے آج کے جدید ذہن کو اجنبی اور غیر مانوس محسوس ہوتی ہے۔ عہد نبوی کی عرب معاشرت میں نو سال کی عمر میں لڑکی کی رخصتی کو کوئی معیوب اور خاص طور پر کوئی غیر اخلاقی معاملہ ہرگز نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ عرب معاشرے نے اسے رچا بسا کر قبول کیا ہوا تھا۔ تو جس معاشرہ کی تہذیب و ثقافت اور صاحبِ عقل سلیم لوگوں میں یہ معاملہ عیب نہ ہو اسے آج کل کے ذہن کے معیار پر پرکھنا کیونکر درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
اس کی ایک مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ سابقہ تہذیبوں میں بادشاہ و سلاطین ہاتھوں میں کنگن پہننا کرتے تھے اور اس کو معاشرہ میں فخر اور شان و شوکت کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن آج کل صدو ر و وزراء نہ اس کا اہتمام کرتے ہیں اور نہ ہی اسے ”تمدن“ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تو کیا اس ”جدید ذہن“ کی بنا پر پچھلی تمام تر تہذیبوں کی تغلیط کی جائے گی اور انہیں ”غیر مہذب“ اور ”غیر متمدن“ اقوام سے تعبیر کیا جائے گا؟ نہیں اور یقیناً نہیں۔ تو یہی توجیہہ یہاں بھی مان لینی چاہیے کہ وہ معاشرہ کم سنی کی شادی کو عیب کی نگاہ سے نہ دیکھتا تھا تو آج کیوں ”جدید معاشرہ“ کے معیارات پر اُس معاشرہ کو پرکھا جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved