- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ کسی عورت کے لیے اپنے بہن بہنوئی یا خالہ خالو کے ساتھ حج یا عمرہ کا سفر کر نا جائز ہے یا نہیں۔ ؟ تفصیل سے رہنمائی فرمائیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شریعت مطہّرہ نے کسی خاتون کے سفر کے حوالے سے یہ تاکید کی ہے کہ اگر وہ سفر کی شرعی مسافت اٹھہتر(78) کلو میٹر یا اس سے زائد کی نیت سے سفر کرے تو اس کے ساتھ اس کے کسی مَحرم کا ہونا ضروری ہے۔ مَحرم سے مراد ایسا رشتہ دارمرد جس کے ساتھ اس خاتون کا زندگی میں کبھی بھی نکاح نہ ہو سکتا ہو۔ جیسےدادا، باپ، بھائی، بیٹا، بھتیجا، بھانجا، چاچو، ماموں۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت فرماتےہیں:« قال رسولَ الله صلى الله عليه وسلم: لا يحِلُّ لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر ثلاثة أيام فصاعِدا إلا ومعها أبوها ، أو زوجها، أو ابنها ، أو أخوها ، أو ذو رَحِم منها».(جامع الاصول فی احاديث الرسول : رقم،3012امام مبارك بن محمد ابن الاثير الجزری: ت606 ھ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد مسافت کا سفر اپنے باپ، یا خاوند، یا بیٹے ، یا بھائی ، یا دوسرے کسی مَحرم رشتہ دار کے بغیر کرے۔بہنوئی اور خالو سے اگرچہ وقتی طور پر نکاح حرام ہوتا ہے کہ جب تک اس خاتون کی بہن یا خالہ نکاح میں ہوتی ہیں تب تک یہ اپنے بہنوئی یا خالو کے نکاح میں نہیں جا سکتی، لیکن بہن یا خالہ کے ساتھ نکاح ختم ہونے کے بعد اپنے بہنوئی یا خالو کے نکاح میں جانا اس کے لیے جائز ہوتا ہے، اس لیے شرعی طور پہ بہنوئی او ر خالو نامحرم ہیں۔ہاں اگر کسی خاتون نے اور اس کے بہنوئی یا خالو نے بچپن میں ایک ہی خاتون کا دودھ پیا ہو تو دودھ پینے کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ اب یہ دونوں رضاعی بہن بھائی بن جائیں گے اس لیے ایک دوسرے کے مَحرم ہوں گے، لہٰذا اس صورت میں سفر پہ جانا جائز ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved