• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بھینس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

بھینس کی قربانی کی شرعی حکم کیا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ غیرمقلد کہتے ہیں کہ بھینس کی قربانی درست نہیں کیوں کہ اگر حلال ہونے کی وجہ سے بھینس کی قربانی جائز ہے تو پھر ہرن اور بارہ سنگھا بھی حلال ہیں، لہٰذا ان کی قربانی بھی درست ہونی چاہیے؟ براہِ کرم دلائل کے ساتھ اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں کون کون سے جانوروں کی قربانی جائز ہےتاکہ شبہات کا خاتمہ ہو جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اہل السنت والجماعت کے نزدیک جوجانور قربانی کے لیے ذبح کیے جا سکتے ہیں وہ بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ(نر، مادہ) ہیں۔
أَمَّا جِنْسُهُ فَهُوَ أَنْ يَّكُوْنَ مِنَ الْأَجْنَاسِ الثَّلَاثَةِ الْغَنَمِ أو الْإِبِلِ أو الْبَقَرِ وَيَدْخُلُ في كلِّ  جِنْسٍ نَوْعُهُ وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى منه وَالْخَصِيُّ وَالْفَحْلُ لِانْطِلَاقِ اسْمِ الْجِنْسِ على ذلك وَالْمَعْزُ نَوْعٌ من الْغَنَمِ وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ من الْبَقَرِ.
 (فتاویٰ عالمگیریہ: ج5 ص367 الباب الخامس)
ترجمہ: قربانی میں جو جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں وہ ان تین قسموں میں سے ہونے چاہییں؛ بکری، اونٹ اور گائے، اور ان میں ہر جنس کی نوع (قسم) بھی شامل ہے، مذکر، مونث، خصی، بغیر خصی ہر قسم شامل ہے، مینڈھا یہ بکری کی قسم ہے اور بھینس یہ گائے کی قسم ہے۔
دلیل:
﴿وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ﴾
(سورۃ الحج: 34)
ترجمہ: ہم نےہر امت کےلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کےمخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نےعطاء فرمائے۔ 
اس آیت میں قربانی کے لیے ”بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ“ مقرر کیے گئے ہیں۔ ان ”بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ“ کی وضاحت خود قرآن مجید میں دوسرے مقام پر یوں موجود ہے:
﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ؁ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ؁ وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ الایۃ﴾
(سورۃ الانعام: 142، 143، 144)
ترجمہ:اور چوپایوں میں سے اللہ نے وہ جانور بھی پیدا کیے ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی جو زمین سے لگے ہوئے ہیں۔ اللہ نے جو تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ جان لو کہ وہ تمہارے لیے کھلا شمن ہے۔ (مویشیوں کے) کل آٹھ جوڑے اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ دو صنفیں (نر اور مادہ) بھیڑوں کی نسل سے اور دو بکروں کی نسل سے، ذرا ان سے پوچھو کہ: ”کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو؟ اگر تم سچے ہو تو کسی علمی بنیاد پر مجھے جواب دو!“ اور اسی طرح اونٹوں کی بھی دو صنفیں (نر اور مادہ) اللہ نے پیدا کی ہیں، اور گائے کی بھی دو صنفیں۔ ان سے کہو: ”کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو؟
یعنی ”بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ“ آٹھ جانور ہیں؛ دو بھیڑوں سے، دو بکریوں میں، دو اونٹوں سے اور دو گائیوں میں سے۔
امام ابو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن مهران  المعروف ابن ابی حاتم الرازي رحمہ اللہ (ت327ھ )اس آیت  کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ: أَنَّ رَجُلا سَأَلَ عَلِيًّا عَنِ الْهَدْيِ مِمَّا هُوَ فَقَالَ: مِنَ الثَّمَانِيَةِ الأَزْوَاجِ. فَكَاَنَّ الرَّجُلَ شَكَّ. قَالَ عَلِيٌّ: تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ: فَسَمِعْتَ اللَّهَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الأَنْعَامِ قَالَ وَسَمِعْتَهُ يَقُولُ لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ… وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا قَالَ: فَسَمِعْتَهُ يَقُولُ: مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الإِبِلِ اثْنَيْنِ.
(تفسیر ابن ابی حاتم الرزای: ج5 ص94)
ترجمہ: حضرت ابو جعفر محمد بن علی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قربانی کے جانوروں کے متعلق سوال کیا کہ یہ کون سے جانور ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: قربانی کا جانور آٹھ جانوروں میں سے ہوتا ہے مگر اس آدمی کو کچھ شک ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے اللہ کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الأَنْعَامِ“ (اے ایمان والو! معاہدوں کو پورا کرو، تمہارے لیے وہ چوپائے حلال کر دیے گئے ہیں جو مویشیوں میں داخل ہوں) اور کیا یہ ارشاد نہیں سنا کہ ”لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ“ (تاکہ وہ چوپائیوں کےمخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نےعطاء فرمائے) اور کیا یہ ارشاد نہیں سنا کہ ”وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَةً وَّفَرْشًا“ (اللہ تعالیٰ نے چوپائیوں میں سے بوجھ اٹھانے والے [یعنی اونٹ ،بیل] بھی پیدا کیے ہیں اور زمین پر لگے ہوئے [یعنی بکری، دنبہ، بھیڑ وغیرہ]) اور یہ ارشاد نہیں سنا کہ ”مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الإِبِلِ اثْنَيْنِ“ (دو صنفیں یعنی نر اور مادہ بھیڑوں کی نسل سے، دو صنفیں گائے کی نسل سے، دو بکروں کی نسل سے،دو اونٹوں کی نسل سے)
فا ئدہ:
قربانی کے جانوروں میں بھینس بھی داخل ہے کیونکہ یہ بھی گائے کی ایک قسم ہے، لہذا بھینس کی قربانی بھی جائز ہے۔ 
وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ من الْبَقَرِ.
 (فتاویٰ عالمگیریہ: ج5 ص367 الباب الخامس)
ترجمہ: بھینس گائے کی قسم میں سے ہے۔
دلائل:
دلیل نمبر1:
حافظ ابو شجاع شیرویہ بن شھردار بن شیرویہ دیلمی ت509ھ روایت نقل کرتے ہیں :
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا:
الْجَامُوْسُ تُجْزِي عنْ سَبْعَة فِي الأُضْحِيَةِ.
(الفردوس بماثور الخطاب لابی شجاع الدیلمی: ج2 ص124 رقم الحدیث 2650)
ترجمہ: بھینس کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ 
دلیل نمبر2:
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ (ت110ھ) فرماتے:
اَلْجَا مُوْسُ بِمَنْزِلَۃِ الْبَقَرِ.
 (مصنف ابن ابی شیبہ لابی بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابن ابی اشیبہ : ج7، ص65 رقم: 10848) 
ترجمہ: بھینس گائے کے درجہ میں ہے۔
حدیث کی تعریف:
• مشہور محدث علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی (ت743ھ) لکھتے ہیں:
الحدیث اعم من ان یکون قولَ النبی صلی اللہ علیہ و سلم او الصحابی او التابعی، و فعلَہم و تقریرَہم.
(شرح المشکوٰۃ للطیبی: ج1 ص4، 5)
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ، صحابی یا تابعی کے قول، فعل اورتقریر کو حدیث کہتے ہیں۔
• مولانا خیر محمد جالندھری (ت1390ھ) لکھتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین کے قول و فعل وتقریر کو حدیث کہتے ہیں۔
(خیر الاصول:  ص3)
نوٹ: فن حدیث کی روشنی میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا ارشاد بھی حدیث میں داخل ہے۔
دلیل نمبر3:
علامہ  ابوبکر محمد بن ابراھیم بن  المنذر  ت319ھ لکھتے ہیں:
وَاَجْمَعُوْا عَلیٰ اَنَّ حُکْمَ الْجَوَامِیْسِ حُکْمُ الْبَقَرِ.
 (کتاب الاجماع لابن المنذر: ص37)
ترجمہ: ائمہ حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔
فائدہ :اجماع امت چونکہ دلیل شرعی ہے لہٰذا بھینس کی قربانی کے جواز پہ دلیل شرعی موجود ہے۔
دلیل نمبر4:
•  امام سفیان ثوری رحمہ اللہ (ت161ھ) فرماتے ہیں:
تُحْسَبُ الْجَوَا مِیْسُ مَعَ الْبَقَرِ.
 (مصنف عبدالرزاق:لامام عبد الرزاق بن ہمام ت211ھ   ج4ص23، رقم الحدیث: 6881)
ترجمہ: بھینسوں کو گائے کے ساتھ شمار کیا جائے گا۔
•  امام مالک بن انس مدنی رحمہ اللہ (ت179ھ) فرماتے ہیں:
اِنَّمَا ھِیَ بَقَرٌ کُلُّہَا. 
(مؤطا امام مالک: ص294، باب ما جا ء فی صدقۃ البقر) 
ترجمہ: یہ بھینس گائے ہی ہے(یعنی گائے کے حکم میں ہے)
ایک اور مقام پرفرماتے ہیں: اَلْجَوَامِیْسُ وَالْبَقَرُ سَوَائٌ.
 (کتاب الاموال لابى  عبید قاسم بن سلام ت224ھ: ج2، ص385، رقم: 812) 
ترجمہ: گائے اور بھینس برابر ہیں (یعنی ایک قسم کی ہیں)
فائدہ: بھینسوں کی زکوۃ  کا ذکر حدیث مبارک میں نہیں ہے، فقہاء نے جس طرح گائے پر قیاس کرتے ہوئے بھینس میں بھی زکوۃ کا حکم  لگایا ہے ، دونوں کا نصاب ایک قرار دیا گیا ہے۔  اسی طرح قربانی کے مسئلے میں بھی گائے کو بھینس پر قیاس فرماتے ہوئے قربانی کا حکم لگایا۔
دلیل نمبر5:
اَلْجَا مُوْسُ ضَرْبٌ مِّنْ کِبَا رِ الْبَقَرِ. 
(المنجد: ص101)
ترجمہ: بھینس بڑی گائے کی ایک قسم ہے۔
فائدہ: نعیم الحق ملتانی غیر مقلد نے کتاب لکھی ہے: ”بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ“، اس میں بھینس کی قربانی کو جائز کہا ہے اور دلائل کے منکر کو جاہل کہا ہے۔
غیر مقلدین کا موقف: 
بھینس کی قربانی کرنا صحیح نہیں، اس لیے کہ یہ عرب میں نہیں پائی جاتی تھی۔
(فقہ الحدیث از افادات ناصر الدین البانی: ج2 ص475)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل از مبشر احمد ربانی: ج2ص337)
جواب: 
1: بھینس اگرچہ موجود نہ تھی لیکن باجماعِ امت اسے گائے کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے گائے والا حکم دے دیا گیا جیسا کہ زکوٰۃ کے مسئلہ میں اسے گائے کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔
2: اگر بھینس کی قربانی نہ کرنے کی یہی دلیل ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں بلادِ عرب میں نہیں تھی تو اس دلیل کے مطابق اس کا گوشت، دودھ ، مکھن، کھال وغیرہ کااستعمال بھی جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ دور نبوت میں عرب ممالک میں نہیں پائی جاتی تھی۔
فائدہ:
غیر مقلدین کے ہاں  جن جانوروں کی قربانی جائز ہے ان میں درج ذیل چیزیں بھی شامل ہیں: 
[۱]: گھوڑے کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ ستاریہ: ج1 ص149)
[۲]: مرغ کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ ستاریہ: ج2 ص72)
[۳]: انڈے کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ ستاریہ: ج4ص40)
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ بھینس کی قربانی شرعاً جائز ہے، اس پر خیرالقرون سے لے کر آج تک تمام امت کا اتفاق ہے۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved