- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ہمارے پاس بھینسیں ہیں۔ چھوٹی، بڑی اور درمیانی ملا کر 40 سے 50 عدد بنتی ہیں۔ ان کے زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے حساب کر کے رقم دے سکتے ہیں یا کوئی بھینس دینا ہی لازمی ہے؟ اس حوالے سے شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جانوروں (اونٹ، گائے بھینس، بکری) میں زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:1: یہ جانور سال کا اکثر حصہ باہر سے چر کر گزارہ کرتے ہوں۔ اگر یہ جانور آدھا سال یا سال کا آدھے سے کم حصہ باہر سے چرتے ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ اگر جانوروں کو گھر میں رکھ کر انہیں چارہ کھلایا جاتا ہو (جیسے گھروں میں یا ڈیری فارمز پر کیا جاتا ہے) تو ایسے جانوروں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔2: ان جانوروں کو پالنے کا مقصد دودھ کا حصول یا ان کی افزائش نسل ہو۔ اگر ان جانوروں کو پالنے کا مقصد ان کا گوشت کھانا ہو یا ان پر بوجھ لادنا ہو یا ان پر سواری کرنا ہو یا کھیتوں میں ہل چلانا ہو یا ان کے ذریعے کنواں چلانا ہو تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں اگرچہ یہ سال کا اکثر حصہ باہر ہی کیوں نہ چرتے ہوں۔3: ان جانوروں میں کوئی جانور بڑا بھی ہو۔ اگر سارے جانور چھوٹے بچے ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔4: یہ جانور قابلِ افزائش بھی ہوں یعنی یہ ایسے تندرست ہوں کہ ان کی نسل بڑھنے کا امکان بھی ہو۔ اگر یہ بالکل کمزور اور ناتواں سے ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں۔اگر کسی شخص کے پاس اونٹ، گائے بھینس اور بکری میں سے کوئی جانور موجود ہوں اور مذکورہ شرائط بھی پائی جائیں تو شریعت کی طرف سے مقررہ نصاب موجود ہونے کی صورت میں ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ آپ کے پاس چونکہ صرف بھینسیں ہیں اس لئے اگر ان پر سال مکمل ہو چکا ہو درج بالا تمام شرائط بھی موجود ہوں تو زکوٰۃ میں تفصیل یہ ہے کہ• بھینسیں 30 سے 39 ہوں تو ان میں ایک عدد ایک سالہ بھینس بطور زکوٰۃ واجب ہے• بھینسیں 40 سے 59 ہوں تو ان میں ایک عدد دو سالہ بھینس بطور زکوٰۃ واجب ہےآپ اس عمر کی بھینس دینا چاہیں یا اس کی قیمت دینا چاہیں دونوں صورتیں درست ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved