• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بغیر نیت اور ارادہ کے تین طلاق دینے کا حکم

استفتاء

ایک آدمی کا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا ، اسی دوران خاوند نے بیوی کو کہا: جا میں نے تجھے طلاق دی ، جا میں نے تجھے طلاق دی، جا میں نے تجھے طلاق دی، تین دفعہ یہ الفاظ استعمال کیے ، لیکن ان الفاظ سے طلاق دینے کی نیت اور ارادہ نہیں تھا۔ آیا اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” ثَلاَثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ وَالطَّلاَقُ وَالرَّجْعَةُ”
(سنن ابی داؤ: حدیث نمبر2196)
ترجمہ: نکاح، طلاق اور رجعت(رجوع کرنا) تین چیزیں ایسی ہیں جن کو سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں کیا جائے وہ واقع ہو جاتی ہیں۔
میاں بیوی کے درمیان قائم رشتہ ِ نکاح کو ختم کرنے کے لیے لفظ طلاق واضح اور صریح ہے،  لفظ طلاق کے ذریعے نکاح کو ختم  کرنے کی صورت  میں نیت ضروری نہیں ہوتی، نیت اور ارادہ  ہو یا نہ ہو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ 
لہٰذا مذکورہ صورت میں طلاق دینے والے کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو  چکی ہیں،  اور وہ اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے، ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا حرام اور ناجائز ہے۔   اب شرعی حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہو گا۔ شرعی حلالہ سے مراد یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری شادی کرے اور اس کے بعد یہ دونوں میاں بیوی آپس میں وظیفہ زوجیت بھی ادا کریں،  بعد میں شوہر یا تو فوت ہو جائے یا اپنی مرضی سے  اسے طلاق دےدے اور یہ عدت گزارنے کے بعد واپس پہلے شوہر کے پاس جانا چاہے تو باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح جائز ہو گا۔ 
واللہ اعلم بالصواب

© Copyright 2025, All Rights Reserved