• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بطور صدقہ طالبات سے متعین رقم وصول کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مدرسے کی ایک معلمہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تمام معلمات اور تمام طالبات سے صدقے کے نام سے پیسے لیتی ہے ۔ تعداد بھی خود مقرر کردی ہے، یعنی غیر شادی شدہ طالبہ سے کم از کم 50 اور شادی شدہ سے کم ازکم 100 روپے، اس سے کم قابل قبول نہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ رجسٹر میں باقاعدہ نام لکھ لکھ کر وصول کرتی ہے اور اگر کوئی طالبہ کسی وجہ سے نہ دے سکی تو اگلے ماہ اس سے دوگنا کر کے لیتی ہے تو ان کی طرف سے ایسے طریقے سے رقم لینے کا شرعاً کیا حکم ہے؟ نیزکیا اس طرح صدقہ ہو سکتا ہے ؟ شرم یا خوف کی وجہ سے کوئی آدمی پیسے تو دے دے لیکن دل سے راضی نہ ہو تو کیا اسے صدقے کا ثواب ملےگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

واجب   صدقہ ( زکوٰۃ، عشر، فدیہ  ) میں تو  شریعت مبارکہ کی طرف سے  مقدار متعین کی گئی ہے، لیکن نفل صدقہ میں  انسان کی مالی وسعت  کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ  ہر انسان اپنی استطاعت کے مطابق جتنا چاہے    صدقہ کر سکتا ہے ۔ 
جب  شریعت مبارکہ  کی طرف سے  نفل صدقہ میں کسی خاص مقدار کا پابند نہیں بنایا گیا ہے تو ہمیں بھی اس پر عمل کرنا چاہیے، اور کوئی مقدار متعین کیے بغیر ہر بندے کو اپنی مالی وسعت کے مطابق صدقہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ 
 نفل صدقہ کی مد میں  کسی پر مخصوص مقدار کا تعیّن کئی ایک  قباحتوں  کا مجموعہ ہے۔   
(1) یہ طریقہ شریعت کی تعلیم اور مزاج  کے  سراسر خلاف ہے۔ 
(2)    اس میں صدقہ دینے والے پر ایک قسم کا جبر اور زبردستی کا پہلو  پایا جاتا ہے، کہ آپ نے طے شدہ رقم ہی دینی ہے اس سے کم نہیں، یہ طریقہ شرعاً درست نہیں۔  
(3)    بسا اوقات  مالی وسعت نہ ہونے کی بناء پر   صدقہ دینے والا ظاہری رکھ رکھاؤ، شرم و حیا یا  عار و شرمندگی کے خوف  سے اپنی  دِلی خوشی اور رضامندی کے بغیر ہی وہ مخصوص مقدار دے دیتا ہے، (جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے)     یہ صورت جائز نہیں ہے، شریعت مبارکہ میں کسی کے مال کو اس کی دِلی خوشی اور مکمل رضا مندی کے بغیر لینے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ 
حضرت عَمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ   فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ  دیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا:  
” لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَّالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ “۔
(شرح معانی الآثار: حدیث نمبر 6633)
ترجمہ: کسی  آدمی کے لیے اپنے  بھائی کا تھوڑا سا  مال   بھی اس کی دلی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں۔   
حضرت  ابو حُمَید الساعدی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
“لا يحل لامرئ مسلم أن يأخذ مال أخيه بغير حقه،وذلك لما حرم الله عز وجل مال المسلم على المسلم”
(كنز العمال فی سُنَن الاَقوال والاَفعال: حدیث نمبر30343)
ترجمہ: کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی (شرعی) حق کے بغیر اپنے بھائی کا مال لے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا مال مسلمان پر (اس کی  دِلی اجازت کے بغیر) حرام کر دیا ہے۔ 
درج بالا تفصیل سے  حسبِ ذیل امور معلوم ہوئے: 
(1)  صدقہ کی طے شدہ رقم جو طالبات دلی خوشی سے دیتی ہیں ان کا استعمال شرعاً جائز ہے۔ 
(2)  جو طالبات دلی خوشی سے نہیں  دیتی ہیں ، بلکہ شرم و حیا یا  عار و شرمندگی کے خوف  سے دیتی ہیں، اس رقم کا استعمال شرعاً ناجائز  ہے۔یہ رقم ان کو واپس کر دی جائے، دوبارہ اگر وہ  اپنی مرضی اور خوش دلی جمع کرا دیں  تو استعمال جائز ہو گا۔ 
(3) رضامندی کے بغیر دی گئی رقم سے صدقہ کا ثواب تو نہیں ملے گا البتہ اپنی معلمہ کی بات ماننے اور حکم پر عمل کرنے کا اجر مل جائے گا۔ 
(4)  کسی بھی جگہ اجتماعی طور پر صدقہ لینا ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے صدقہ کے فضائل بیان کر کے تمام افراد کو  صدقہ دینے کی خوب  ترغیب دی جائے،اس کے بعد  مناسب  ہے کہ  ایک باکس کا انتظام کر لیا جائے اور تمام افراد کو اس بات کی تاکید کی جائے کہ ہر آپ میں سے ہر  ایک   فرد حسبِ استطاعت  صدقہ کی رقم اس میں ڈالے، کوئی بھی فرد ایسا نہ رہے جو اس سعادت سے محروم  ہو جائے۔  اس طرح متعین کیے بغیر  صدقہ دینے سے صدقہ کا رجحان بھی  بڑھ جائے گا اور شرعی طور پر  بھی کوئی قباحت باقی نہ رہے گی۔  
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved