- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا بدعتی امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اہل السنۃ والجماعۃ احناف دیوبند کے نزدیک بدعتی امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔ ایسے شخص کی اقتداء سے احتراز کی جائے۔چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں!(1): فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ (ت1322ھ) فرماتے ہیں:سوال: بدعتی کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ؟جواب : بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔ فقط (فتاویٰ رشیدیہ : ص 338)(2): حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ (ت1347ھ) فرماتے ہیں:”سوال: جو شخص بالکل جاہل ہو اور قرآن مجید کو سوائے چند سورۃ کے پوری طرح نہ پڑھ سکتا ہو اور قبر پرستی کو اچھا خیال کرتا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب اور حاضر و ناظر کہتا ہو بلکہ علی الاعلان کہتا ہے کہ اللہ اور رسول میں کوئی تمیز نہیں، ناچ وغیرہ میں شامل ہوتا ہے اس کو امام بنانا جائز ہے یا کیا حکم ہے ؟جواب: ایسا شخص امام بنانے کے لائق نہیں ہے۔ امام بنانا اس کا حرام ہے اور امامت سے معزول کرنا اس کا لازم ہے۔ سب مسلمانوں کو چاہیے کہ اتفاق کر کے اس کو امامت سے علیحدہ کر دیں اور کسی دوسرے عالم صالح اور متقی کو امام بنا دیں ۔“(فتاویٰ دارلعلوم دیوبند: ج3 ص 164)(3): مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ (ت1372ھ) فرماتے ہیں:سوال: جو شخص دائمی طور پر بدعات شنیعہ کا مرتکب ہو اس کی امامت درست ہے یا نہیں؟جواب: بدعات شنیعہ کے مرتکب کی امامت مکروہ ہے ۔(کفایت المفتی: ج 3 ص 96)(4): حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ (ت1390ھ) فرماتے ہیں:”سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اندریں مسئلہ کہ جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں اور حاضر و ناظر ہر مجلس و ہر مکان میں ہیں اور علم کلی ہے، میلاد وغیرہ میں جو اصحاب قیام کرنا لازمی سمجھ کر اور حاضر و موجود سمجھ کر کرتے ہیں شرعاً ثبوت ملتا ہے؟ خیر القرون میں بھی قیام کرتے تھے ؟ اگر ایسے اعتقاد والاصاحب امامت کرے تو نماز کا اعادہ کریں یا کہ ہو چکی؟جواب: غیر اللہ کے متعلق علم غیب کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ ایسے عقیدہ سے توبہ کرنا لازم ہے۔ اس پر قائم رہنے والے کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے لیے کھڑے ہونے سے منع فرمایا تھا۔ جب آپ کا انتقال شریف ہوا اس کے بعد بھی وہی حکم باقی ہے۔ خیر القرون میں کہیں قیام معروف و معمول نہیں۔ لہذا مجرد قیام بغیر اس عقیدہ باطلہ کے نہ کرنا چاہیے۔ کرنے والا مبتدع ہے۔ اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے ۔“(خیر الفتاویٰ: ج2 ص 368)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved