• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بیرون ممالک والے اپنی اولاد کا فطرانہ کس ملک کے اعتبار سے دیں

استفتاء

عرض یہ ہے کہ عیدالفطر کے موقع پر سرسایہ[فطرانہ] کی بات چلی تو ایک صاحب نے کہا کہ اگربندہ باہرکماتاہو تواس کےنابالغ اولاد کے سرسایہ کواسی ملک کے کرنسی میں دی جائے جس ملک میں کماتاہے۔ اسکی کیا حقیقت ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

صدقہ فطر ادا کرنے والا جہاں موجود ہے وہیں کے اعتبار سے ادا کرے گااور اگرصدقہ الفطر کی قیمت ادا کرنی ہے تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے وہاں کا اعتبار ہوگا، لہٰذا اگر آپ بیرون ملک میں مقیم ہیں اور عید الفطر وہیں کریں گے تو آپ پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر آپ کے موجودہ رہائشی ملک (دبئی) کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا، خواہ آپ یہ قیمت وہیں دبئی میں ادا کریں یا پاکستان بھیج دیں یا آپ کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔“والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال،۔۔۔۔ وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح،فتاوی شامی ۔ج2ص355ترجمہ:زکوٰۃ کی ادائیگی میں جس جگہ مال موجود ہو وہاں کے فقراء کا اعتبار کیا جائے گا۔۔ اور فطرانہ میں ادا کرنے والےکی جگہ کا اعتبار ہو گا امام محمد کے ہاں اور یہی صحیح ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved