• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اس آیتِ مبارکہ ”ٳِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ “میں ”ولی“ سے کیا مراد ہے؟

استفتاء

قرآن کریم میں ایک آیت مبارکہ ہے:”ٳِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ “اس آیت میں ”ولی“ سے کیا مراد ہے؟ ایک بریلوی کا کہنا ہے کہ جب صرف اللہ مدد گار ہے توپھر آگے رسول اور مومنین کا ذکر کیوں کیا گیا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جس  آیتِ کریمہ کا حوالہ دیا گیا ہے یہ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 55 ہے۔اس سے پہلے والی چار آیات میں اہلِ ایمان کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ قلبی تعلق ، گہری دوستی، موالات اور رفاقت سے منع فرمایا گیا ہے۔ تو اس آیتِ کریمہ میں یہ بتلایا گیا کہ مسلمانوں کی دوستی ، قلبی لگاؤ  اور رفاقت کا تعلق محض اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے ساتھ ہے۔
   اس آیت کریمہ میں   ”ولی“  کا معنی  دوست اور رفیق  ہے، یعنی رفاقت اور دوستی مراد ہے   ”استعانت “مراد نہیں۔ اہلِ حق کے علاوہ  اہلِ بدعت نے بھی اس آیت میں ”ولی“ کا معنی ”دوست“ سے کیا ہے۔   چند تفاسیر کا حوالہ پیشِ خدمت ہے:
[1]: شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ (ت1369ھ) لکھتے ہیں:
مسلمانوں کے اصلی دوست كون ہیں؟
 پچھلی آیتوں میں یہود و نصاریٰ کی موالات اور رفاقت سے مسلمانوں کو منع کیا گیا تھا۔ جس کو سننے کے بعد طبعی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر مسلمانوں کے تعلقات محبت و وِداد اور معاملاتِ رفاقت کن سے ہونے چاہئیں۔ اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ ان کا رفیق اصلی خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مخلص مسلمانوں کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔
تفسیر عثمانی: ص151
[2]: مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ (ت1396ھ) لکھتے ہیں:
سابقہ چار آیات میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ گہری دوستی رکھنے سے منع فرمایا گیا پانچویں آیت میں مثبت طور پر یہ بتلایا گیا کہ مسلمانوں کو گہری دوستی اور رفاقت ِخاص کا تعلق جن سے ہو سکتا ہے وہ کون ہیں؟ ان میں سب پہلے اللہ تعالیٰ اور پھر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے کہ در حقیقت مومن کا ولی و رفیق ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور وہی ہو سکتا ہے، اور اس کے تعلق کے سوا ہر تعلق اور ہر دوستی فانی ہے ، اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بھی در حقیقت اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے، اس سے الگ نہیں ، تیسرے نمبر میں مسلمانوں کے رفیق اور مخلص دوست اُن مسلمانوں کو قرار دیا ہے جو صرف نام کےمسلمان نہیں، بلکہ سچے مسلمان ہیں۔ 
معارف القرآن: ج 3  ص 178
[3]: احمد رضا خان صاحب اس آیت کریمہ میں ”ولی“ کا معنی ”دوست“ کیا ہے، وہ   لکھتے ہیں: 
ترجمہ: ”تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے“۔
کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن: ص211
[4]: نعیم الدین مراد آبادی صاحب  اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”جن کے ساتھ موالات حرام ہے  ان کا ذکر فرمانے کے بعد ان کا بیان فرمایا جن کے ساتھ موالات واجب ہے۔ 
 شان نزول: حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے حق میں نازل ہوئی،  انہوں نے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری قوم قریظہ اور نظیر نے ہمیں چھوڑ دیا اور قسمیں کھالیں کہ وہ ہمارے ساتھ مجالست (ہم نشینی ) نہ کریں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی تو عبداللہ بن سلام نے کہا ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اس کے رسول کے نبی ہونے پر مومنین کے دوست ہونے پر اور حکم آیت کا تمام مومنین کے لئے عام ہے سب ایک دوسرے کے دوست اور محبّ ہیں۔
خزائن العرفان  فی تفسیر القرآن: ص211
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved