• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

استفتاء

میری پھوپھو زاد بہن ہے، میاں بیوی کا گھریلو جھگڑا ہوا ہے، ان کے شوہرسعیداحمد نےاپنے برادرانِ نسبتی کوبلیک میل کرنےکےلیےاپنی بیوی کو غصہ میں اور طلاق کی دھمکی دیتے ہوئے یہ سب الفاظ بولے ہیں:1: تومیڈےڈھ دی کائنی، اپڑیں ما پیو دے گھربہ۔ یعنی تومیرےکام کی نہیں، اپنے ماں باپ کےگھربیٹھ۔2: رب دی قسم ہے، میں اللہ دے کلام تےہتھ رکھ کےآہداپیاں، ما دا نہیں حرام داہوساں، طلاق نہ ڈیواں تاں۔ یعنی میں رب کی قسم اٹھاکر اللہ کے کلام پر ہاتھ رکھ کرکہہ رہا ہوں ، اپنی ماں کا بیٹا نہ ہوں گا بلکہ حرام کا ہوں گا اگر طلاق نہ دے دی تو۔3: میڈاایندےنال کوئی تعلق کائنی، بشرطیکہ ہالی میں طلاق نہیں ڈتی جئیں ویلے طلاق ڈیساں لکھ ڈیساں۔ یعنی میرا اس کےساتھ کوئی تعلق نہیں، لیکن ابھی میں نے طلاق نہیں دی، جب طلاق دوں گا لکھ کر دوں گا۔4: میں ایکوں فارغ پیاکرینداتواڈےسامڑیں۔ یعنی میں اس کوتمہارےسامنےفارغ کررہاہوں۔5: میں نہیں رکھیندا، ایکوں بابا میں نہیں رکھیندااپڑیں نال۔ یعنی میں اس کواپنےپاس نہیں رکھتا۔نوٹ: ان الفاظ کی آڈیوموجودہےاورقرآن پر ہاتھ رکھتے وقت آسان ترجمہ قرآن پر حلف لیاہے۔آیاسعیداحمدکی بیوی کو طلاق ہوئی یانہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سعید احمد کے ان الفاظ ”میں ایکوں فارغ پیاکرینداتواڈےسامڑیں۔ یعنی میں اس کوتمہارےسامنےفارغ کررہاہوں۔“ سے اس کی بیوی کو ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے، جس سے نکاح ٹوٹ گیا ہے۔ اب اگر اس کی سابقہ بیوی رضامند ہو تو دوبارہ شرعی طریقہ سے نکاح کیا جا سکتا ہے، یعنی دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کر لیا جائے تو نکاح ہو جائے گا۔ البتہ آئندہ اس کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا۔اس کے علاوہ باقی الفاظ طلاق کے وقوع میں مؤثر نہیں، اس لیے ان سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved