- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میں نے سنا ہے کہ نکاح متعہ کی ابتدائے اسلام میں اجازت تھی پھر ممانعت ہوئی۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ یہ اجازت اور ممانعت کتنی بار ہوئی اور کب ہوئی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مفتی بغداد علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسی رحمہ اللہ )ت:1270ھ( لکھتے ہیں۔وَالصَّوَابُ الْمُخْتَارُ اَنَّ التَّحْرِیْمَ وَالْاِبَاحَۃَ کَانَا مَرَّتَیْنِ وَکَانَتْ حَلَالًاقَبْلَ یَوْمِ خَیْبَرَ ثُمَّ حُرِّمَتْ یَوْمَ خَیْبَرَ،ثُمَّ اُبِیْحَتْ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ وَھُوَ یَوْمُ اَوْطَاسٍ لِاِتِّصَالِھمَا، ثُمَّ حُرِّمَتْ یَوْمَئِذٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ تَحْرِیْماً مُؤَبَّدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاسْتَمَرَّالتَّحْرِیْمُ ۔(روح المعانی :سورۃ النساء، آیت نمبر: 24،ج:3،جزء: 5،ص: (5ترجمہ : درست اور پسندیدہ قول یہ ہے کہ متعہ کی حرمت و اباحت دومرتبہ ہوئی غزوہ خیبر سے قبل حلال تھا پھر غزوہ خیبر کے موقع پر حرام قرار دیاگیا ، پھر فتح مکہ کے موقع پر مباح قرار دیاگیااور یہی غزوہ اَوطاس کا موقع تھا دونوں کو زمانہ کی قربت کی وجہ سے ایک شمار کیاگیا۔ پھر تین دن کی اباحت کے بعد تاقیامت ہمیشہ کےلیے حرام قرار دے دیا گیا ، اب اس کی حرمت ہمیشہ باقی رہے گی۔
واللہ اعلم بالصواب
© Copyright 2025, All Rights Reserved