• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فوت شدہ نمازوں کو ادا کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟

استفتاء

حفصہ کی عمر 41 سال ہے۔بلوغ سے اب تک کی تقریباً فوت شدہ ہر نماز کی تعداد 6000 ہے ، جس کی ادائیگی اس کے ذمہ باقی ہیں۔ یعنی:فجرفرض:6000 ظہرفرض:6000 عصرفرض:6000 مغرب فرض:6000عشاء فرض: 6000 وتر: 6000اب اس نے 40 سال کی عمر سے نمازیں پابندی سے شروع کی۔صاحب الترتیب ہونے کی خواہش اور قضا کی ادائیگی ضروری ہے اس کو سمجھا۔اب مسئلہ یہ ہے کہ اتنی نمازیں کھڑے رہ کر نہیں پڑھ پا رہی ہیں۔۔اب کی ادا اور پچھلی قضا پڑھنے لگے تو 5,6 قضا کے بعد گھٹنوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔تو کیا کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھ سکتی ہے؟کچھ کھڑے ہوکر ، پھر ایک دو بیٹھ کر پھر کھڑے ہوکر۔کوئی آسان ترتیب بتادیں۔نماز مکمل کرنے کی بڑی خواہش ہے۔ ملامت بہت ہے دل پر اتنی نمازیں قضا جمع ہیں پھر اتنی نمازوں کے رہتے نوافل مشکل سے ہو پاتے ہیں۔مزید یہ بھی کہ روزے بھی نفاس کے دنوں میں سے رہتے تھے جو تقریباً 300 جمع ہو گئے تھے۔وہ بھی 150 الحمدللہ مکمل کر لیے۔150 پھر باقی ہی ہیں۔اس اعتبار سے نماز کے لیے کوئی آسان ترتیب بتائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اللہ کریم عافیت کے ساتھ تکمیل تک پہنچائے۔ آمینآسان ترتیب یہ ہے :[1]: جب تک قضا نمازیں مکمل نہیں ہو جاتیں تب تک غیر مؤکدہ سنتوں اور نوافل کے بجائے قضا نمازیں پڑھا کریں۔[2]: ایک ہی وقت میں بہت ساری قضا نمازیں پڑھنے سے چونکہ تھکاوٹ ہوتی ہے، اس لیے ہر وقتی نماز کے ساتھ ایک قضا نماز پڑھنے کی ترتیب بنائیں، یعنی:فجر کی قضا ؛ نمازِ فجر سے پہلے یا اشراق کے وقت کر لیں، ظہر کے وقت ظہر کی قضا ، عصر کی سنتوں کے بجائے عصر کی قضا ، مغرب کے بعد مغرب کی قضا اور عشاء کی سنتوں کی جگہ عشاء کے فرض اور آخر میں وتر ؛ کی قضا کر لیں۔اگر کسی وقتی نماز کے ساتھ اس کی قضا نہ پڑھ سکیں تو اس کو اگلی نماز کے وقت یا کسی اور وقت قضا کر لیا کریں۔ اس طرح تھکاوٹ اور زیادہ بوجھ کے بغیر؛ آسانی سے ساری نمازیں باقاعدگی سے ادا ہوتی رہیں گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved