- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر کسی حافظہ عورت کو قرآن کریم بھولنے کا اندیشہ ہو تو کیا وہ اپنے حفظ کی پختگی کے لیے رمضان المبارک میں تراویح کی امامت کرا سکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر کوئی عورت حافظہ ہو اور اس کے لئے تراویح میں سنائے بغیر قرآن ِ کریم یاد رکھنا مشکل ہو تو چونکہ قرآن پاک کو بھلادینا بڑا گناہ ہے اس لئے اس گناہ سے بچنے اور قرآن ِ کریم کو یاد رکھنے کی غرض سے عورت کے لئے بِلا تداعی ( بغیر اعلان کے ) صرف گھرکی خواتین کو با جماعت تراویح پڑھانے کی اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ حافظہ عورت کی آواز گھر سے باہر نہ جائے اور تداعی سے پرہیز کیا جائے ۔تداعی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے باقاعدہ اہتمام کر کے خواتین کو نہ بلایا جائے بلکہ اقتداء کرنے والی خواتین صرف حافظہ کے گھر کی ہوں ، باہر سے آکر شریک نہ ہوں، اور اقتداء کرنے والی خواتین کی تعدادقرآن سنانے والی خاتون کے علاوہ دو یا تین سے زیادہ نہ ہو۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved