- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
یہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے تناظر میں ایک نہایت سنگین اور حساس مسئلہ پیش آیا ہے، جس پر ہم آپ کی شرعی اور علمی رہنمائی چاہتے ہیں۔ہوا یہ کہ ایک موقع پر ایک عیسائی فرد نے نبی کریم ﷺ کے اسمِ مبارک کو بگاڑ کر توہین آمیز اور گستاخانہ الفاظ استعمال کیے، نعوذ باللہ من ذلک، استغفراللہ۔ اس کے بعد ہمارے بعض مسلمان ساتھی شدید غصے اور جذبات کی کیفیت میں آ گئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے۔اس مشورے کے نتیجے میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بائبل میں مذکور یسوع مسیح اور قرآن میں بیان کردہ عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخصیات ہیں۔ اسی بنیاد پر بعد میں ہمارے بعض مسلمان ساتھی یسوع مسیح کے بارے میں سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے لگے۔بعد ازاں یہ بات صرف مناظرے یا بحث تک محدود نہیں رہی، بلکہ عام گفتگو کے دوران بھی، جب وہ آپس میں وضاحتیں دیتے یا بات چیت کر رہے ہوتے ہیں، تو یسوع مسیح کے بارے میں گستاخانہ کلام کرتے ہیں۔ میں انہیں بار بار اس طرزِ عمل سے روکتا ہوں، مگر وہ ہر مرتبہ یہی تاویل پیش کرتے ہیں کہ:“ہم عیسیٰ علیہ السلام کی گستاخی نہیں کر رہے بلکہ یسوع مسیح کی کر رہے ہیں، جو ایک الگ شخصیت ہے اور جس کا قرآن کے عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں۔”استادِ محترم، اس پوری صورتِ حال کے بارے میں ہم آپ سے درج ذیل امور میں واضح رہنمائی چاہتے ہیں:کیا یہ مؤقف کہ بائبل کے یسوع مسیح اور قرآن کے عیسیٰ علیہ السلام بالکل الگ شخصیات ہیں، عقیدۂ اسلام کے مطابق درست ہے؟کیا اس طرح کی تاویل کی بنیاد پر یسوع مسیح کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کرنا شرعاً جائز ہو سکتی ہے؟ہم یہ سوالات اس لیے کر رہے ہیں تاکہ جذبات میں آ کر کوئی ایسا قول یا عمل نہ ہو جائے جو ہمارے اپنے عقیدے، اخلاق اور دینی اصولوں کے خلاف ہو۔براہِ کرم ہماری اصلاح اور رہنمائی فرما دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اسلامی عقیدے کے مطابق قرآن کریم میں مذکور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بائبل میں مذکور ”یسوع مسیح“ دو الگ شخصیات نہیں بلکہ ایک ہی شخصیت ہے۔ یعنی جس شخصیت کا ذکر قرآنِ کریم میں عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کے نام سے آیا ہے، اسی شخصیت کو بائبل میں یسوع مسیح کہا گیا ہے۔اس لیے کہ انجیل اپنی اصل کے اعتبار سے ایک آسمانی کتاب ہے، اور اس میں اسی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جن کا تذکرہ قرآنِ کریم میں آیا ہے، اور جن پر ایمان لانا اور انہیں اللہ کا برحق نبی ماننا مسلمانوں کے لیے بھی لازم ہے۔بعد میں جب عیسائیوں کی طرف سے بائبل میں تحریف کی گئی تو دیگر تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عقائد و نظریات کو بھی بدل دیا، مثلاً انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور خدائی میں شریک قرار دیا، جب کہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول تھے ۔تاہم شخصیت کے تعین میں فریقین(مسلمانوں اور عیسائیوں) کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، شخصیت دونوں کے نزدیک ایک ہی ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک بھی وہی شخصیت مراد ہے جو حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے تھے، اور مسلمانوں کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے فرزند ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بغیر والد کے پیدا ہوئے۔پس نتیجہ یہ ہے کہ:• حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع مسیح ایک ہی شخصیت ہے، انہیں الگ الگ شخصیات قرار دینا درست نہیں۔• قرآن اور بائبل میں مذکور عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع مسیح کے بارے میں اختلاف شخصیت کا نہیں بلکہ عقیدے اور نظریے کا ہے۔• اس باطل تاویل کی بنیاد پر یسوع مسیح کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کرنا قطعاً جائز نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved