- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سارا پانی نکال دیتا ہے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ صاف پانی ڈال کر کپڑوں کو گھماتا ہے اور دوبارہ پانی نکال دیتا ہے، پھر آخر میں کپڑوں کو ڈرائی کر دیتا ہے۔یعنی کپڑے دھونے کے بعد تین مرتبہ پانی سے نہیں نکالا جاتا ہے، صرف ایک ہی مرتبہ پانی سے نکالا جاتا ہےیہ بھی واضح رہے کہ میرے کپڑے الگ دھوئے جاتے ہیں، یعنی کسی دوسرے شخص کے کپڑوں کے ساتھ نہیں ملائے جاتے، بلکہ ہر شخص کے کپڑے الگ الگ مشین میں دھوئے جاتے ہیں۔میں یہ طریقہ اختیار کرتا ہوں کہ جب بھی میرے کپڑے ناپاک ہوں میں خود ناپاکی دور کر کے پھر دھونے کے لیے بھیجتا ہوں۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طریقے سے کپڑے شرعاً پاک ہو جاتے ہیں؟ اور اگر خدانخواستہ یہ طریقہ درست نہ ہو تو گزشتہ سات سال سے جو میں انہی کپڑوں میں نماز ادا کرتا رہا ہوں، کیا وہ نمازیں ادا ہو گئی ہیں یا نہیں؟براہِ کرم اس مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ناپاک کپڑے سے تین بار پانی نکالنا ضروری ہوتا ہے، پاک کپڑے سے تین بار پانی نکالنا ضروری نہیں بس ایک مرتبہ بھی کافی ہو جاتا ہے۔آپ کا اختیار کردہ طریقہ نظافت و طہارت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے کہ آپ اپنے ناپاک کپڑے کی ناپاکی دور کرکے (کپڑے پاک کر کے) ڈرائی کراتے ہیں ، اس لیے ایک مرتبہ پانی نکالنا بھی کافی ہے، لہٰذاآپ کے کپڑے پاک ہوتے ہیں اس لیے نمازوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں، اس بارے میں آپ شبہ میں نہ پڑیں۔البتہ اگر مزید تسلی چاہتے ہیں تو احتیاط کے درجہ میں ڈرائی کرنے والے سے کہہ دیں کہ تین بارپانی نکالا کرے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved