• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جہیز کے متعلق راہِ اعتدال

استفتاء

عرض یہ ہے کہ قائلینِ جہیز حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مصلی وغیرہ سے استدلال کرتے ہیں لیکن منکرینِ جہیز جب دیگر تینوں بنات مطہرہ کے نکاح کو (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب عدم انصاف کی نسبت سے احتراز کرتے ہوئے) تعارضاً پیش کرتے ہیں تو قائلین جواباً حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا قلادہ دینا پیش کرتے ہیں۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا قائلینِ جہیز کا حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے قلادہ کو مستدل بناکر راہِ جوازِ جہیز اختیار کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟ توضیح فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ، تاریخ اسلامی اور علمائے امت کی آراء کی روشنی میں راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ 
[۱]: والدین اگر بیٹی کو رخصت کرتے وقت اپنی حیثیت کے مطابق تحفہ تحائف یا آئندہ زندگی میں کام آنے والی اشیاء کسی دباؤ اور دلہا والوں کے مطالبہ کے بغیر محض صلہ رحمی اور شفقت و محبت کے جذبہ کے پیش نظر دے دیں تو یہ جائز ہے، ممنوع نہیں ہے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ)  لکھتے ہیں:
”جہیز جو در حقیقت اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے فی نفسہ امر مباح بلکہ مستحسن ہے (اصلاح الرسوم)۔  اگر خدا کسی کو دے تو بیٹی کو خوب دینا برا نہیں مگر طریقہ سے ہونا چاہیے جو لڑکی کے کچھ کام بھی آئے۔ (حقوق البیت) جہیز میں اس امر کا خیال رکھنا چاہیے: (۱) اختصار یعنی گنجائش سے زیادہ کوشش نہ کرے۔ (۲)  ضرورت کا لحاظ کرے یعنی جن چیزوں کی سردست ضرورت واقع ہو دینا چاہیے۔ (۳) اعلان نہ ہو کیوں کہ یہ تو اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے، دوسرے کو دکھلانے کی کیا ضرورت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے جو اس روایت میں مذکور ہے تینوں امرثابت ہیں۔“
(اسلامی شادی، افادات حضرت تھانوی: ص138 بحوالہ حقوق البیت واصلاح الرسوم)
[۲]: یہ تحفہ تحائف اور ساز و سامان دینے میں نمود و نمائش کو دخل ہو یا سامان اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیا جائے یا قرض اٹھا اٹھا کر نام وری اور عزت بچانے کا عنصر شامل ہو یا سامان دینے کی غرض و راثتی حق سے محروم کرنا ہو تو بلاشبہ یہ سامان دینا نا جائز اور گناہ ہے۔
[۳]: مروّجہ جہیز کا دلہا والوں کی طرف سے مطالبہ کر کے لینا اور اس پر زور زبردستی دکھانا بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ حدیث مبارک میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
“لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ.”
(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث 5105)
ترجمہ:  کسی مسلمان کا مال اس کی خوش دلی کے بغیر لینا جائز نہیں۔
دورِ حاضر میں ”جہیز“  کے نام پر ایک طرف نمود و نمائش اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر ساز و سامان دینے کی کوشش کی جاتی ہے  تو دوسری طرف جہیز نہ ہونے کی وجہ سے دلہا والوں کے طعنے یا لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا کر اس کے لیے جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں جہتیں ہمارے معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔اس کی وجہ سے کئی مفاسد جنم لیتے ہیں۔ بیٹیوں کے بالوں میں چاندی آ جاتی ہے لیکن محض ”جہیز“ نہ ہونے کی وجہ سے نکاح میں تاخیر کر دی جاتی ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔ اس لیے مروّجہ جہیز کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور سادگی کے نکاح کو فروغ دینا چاہیے۔
فائدہ:
تفصیل مذکور کی روشنی میں یہ سمجھیں کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو دیا گیا ”ہار“محض ایک تحفہ کے طور پر تھا، اس کا مروجہ جہیز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی جو سامان دیا گیا تھا وہ بطور مروجہ جہیز کے نہیں بلکہ محض تحقہ تھا اور اس بات کے پیش نظر دیا گیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے۔ ان کے  لیے گھریلو سازو سامان کا انتظام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد تھا اور وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیسوں سے ہی خریدا تھا۔
مولانا منظور احمد نعمانی  (ت1417ھ) لکھتے ہیں:
”اکثر اہلِ علم اس حدیث کا یہی مطلب سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں اپنی صاحب زادی کے نکاح کے موقع پر جہیز کے طور پر دی تھیں لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو جہیزکے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج، بلکہ تصور بھی نہیں تھا۔ اور جہیز کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسری صاحب زادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں کہیں کسی قسم کے جہیز کا ذکر نہیں آیا۔ رہی بات حدیث کے لفظ ’’جَهَّزَ‘‘ کا مطلب تو اس کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں  بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبست کرنے کے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کاانتظام حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے ان ہی کی طرف سے اور ان ہی کے پیسوں سے کیا تھا؛ کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھرمیں نہیں تھیں، روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہوجاتی ہے، بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا۔“
(معارف الحدیث: ج7 ص660)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved