• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جہاد کے متعلق دو آیات کی وضاحت

استفتاء

عرض یہ ہے کہ
1: فَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَـةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُـوٓا اَلْفَيْنِ بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ اگر اتنی تعدادنہ ہو تو کیا مقابلہ کریں یا پیٹھ پھیر کر بھاگ سکتے ہیں ؟2: اِلَّا تَـنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا ۙاگر تم جہاد میں نہ نکلو گے تو تمہیں عذاب الیم دیا جائے گا کیا عذاب الیم سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں کفار مسلط کریں گے آزمائشیں آئیں گی یا آخرت کا عذاب الیم مراد ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1: اس آیت میں مسلمانوں کے لیے ایک قانون ذکر کیا ہے کہ کس حد تک اپنے حریف کے مقابلے میں ٹھہرے رہنا فرض ہے اور بھاگنا گناہ ہے ۔  یہ حکم اسلام کے سب سے پہلے جہاد غزوہ بدر سے متعلق ہے کہ اس میں دس مسلمانوں کو سو آدمیوں کے برابر حکم دیا گیا کہ اس کے مقابلے میں ٹھہرے رہو  یہاں  یہ بتانا مقصود ہے کہ سو مسلمانوں کو 1000 کفار کے مقابلے میں بھاگنا جائز نہیں ہے اس  سے اگلی آیت میں اس حکم کو آئندہ کے لیے منسوخ کرکے دوسرا حکم دیا گیا  کہ ایک آدمی دو کے مقابلے میں ہو گا  اس کے لیے بھاگنا جائز نہیں۔ 
دوسری آیت کا حکم باقی اور آخری ہے اور یہی ہمیشہ کے لیے جاری ہے۔
2: اس آیت میں سستی کرنے والوں کو ان کے بیماری اور علاج پر تنبیہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا ہے کہ اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب میں مبتلا کریں گے  دردناک عذاب کا تعلق دنیا و آخرت کے عذاب کے ساتھ  ہے ۔
حافظ الدین ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود[م710]فرماتے ہیں :
سخط عظيم على المتثاقلين حيث اوعدهم بعذاب اليم مطلق يتناول عذاب الدارين،وانه يهلكهم ویستبدل بھم قومآ آخرين خيرا منهم واطوع وانه غنى عنهم فى نصرة دينه لا يقدح تثاقلهم فيها شيئاً
ترجمہ:
جہاد سے سستی کرنے والوں کے لیے سخت ترین ناراضگی کا اظہار ہے کہ انہیں ایسے دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے جو مطلق ہے یعنی دنیا آخرت دونوں جگہ کو شامل ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک فرمادے گا اور ان کی جگہ ان سے بہتر اور زیادہ فرمانبردار قوم لے آئے گا اور وہ اپنے دین کی نصرت کے بارے میں ان کا محتاج نہیں ہے ان کی سستی سے اس میں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی[م1270ھ] فرماتے ہیں :
بالاھلاک بسبب فظیع لقحط وظھور عدو 
ترجمہ:
 کسی خوفناک سبب مثلا قحط اور دشمنوں کے غلبے کے ذریعے ہلاک کردیا جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved