- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا تھا ؟ اگر دیا تھا تو کیوں دیا تھا؟ جبکہ آپ ہی نے فرمایا تھا کہ نبی کے علاوہ کوئی امتی اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دینے والوں میں حضرت اسماء بنت عمیس زوجہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما، حضرت علی رضی اللہ عنہ
السنن الکبریٰ للبیہقی: ج3 ص396 رقم الحدیث6905
حضرت سلمیٰ زوجہ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہما
البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: ج6 ص366، اسد الغابۃ لابن الاثیر: ج5 ص466 رقم الترجمۃ 7011
اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا
رد المحتار مع الدر المختار: ج6 ص243
کے نام ملتے ہیں۔
جن روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا غسل دینا منقول ہے ان روایات کا مطلب محققین علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل کے سامان کا انتظام کیا تھا۔ مثلاً پانی بھر دینا، کفن کا انتظام کرنا وغیرہ۔ اس لیے غسل کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مجازاً ہے، حقیقتاً غسل حضرت ام ایمن اور ان کے ساتھ دیگر خواتین نے ہی دیا تھا۔ علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
فَاطِمَةُ رَضِيَ اللّهُ تَعَالٰى عَنْهَا غَسَّلَتْهَا أُمُّ أَيْمَنَ حَاضِنَتُهُ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا فَتُحْمَلُ رِوَايَةُ الْغُسْلِ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللّهُ تَعَالٰى عَنْهُ عَلٰى مَعْنَى التَّهْيِئَةِ وَالْقِيَامِ التَّامِّ بِأَسْبَابِهٖ.
رد المحتار مع الدر المختار: ج6 ص243
ترجمہ: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اَنّا (پرورش کرنے والی خاتون) حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا(اور دیگر عورتوں) نے دیا تھا۔ لہذا جس روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے غسل دینے میں تعاون کیا تھا مثلاً سامان غسل کا انتظام وغیرہ انہوں نے کیا تھا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ عام قاعدہ یہی ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved