- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن میں بکریاں چرانا سنا بھی ہے اور پڑھا بھی۔ اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام کے بھیڑ چرانے کے متعلق بھی سنا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیڑ بھی چرائے ہیں یا صرف بکریاں چرائی ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
صحیح البخاری میں روایت ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ.” فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: “نَعَمْ! كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلٰى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ.” ( )
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بھیڑ بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا آپ نے بھی چرائی ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ہاں ! میں کبھی مکہ والوں کی بھیڑ بکریاں چند قیراط کی اجرت پر چرایا کرتا تھا۔
اس روایت میں ”غنم“ کا لفظ ہے جو بھیڑ اور بکریوں دونوں کو شامل ہے۔ حافظ ابو الفضل احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) ایک مقام پر لکھتے ہیں:
قوله أعطاه غنما هو أعم من الضأن والمعز. ( )
ترجمہ: ”غنم“ کا لفظ بھیڑ اور بکری دونوں کے استعمال ہوتا ہے۔
حافظ بدر الدین محمود بن احمد بن موسیٰ العینی الحنفی (ت855ھ) لکھتے ہیں:
قوله غنما يشمل الضأن والمعز. ( )
ترجمہ: ”غنم“ کا لفظ بھیڑ اور بکری دونوں کو شامل ہے۔
لغت کی دیگر کتب میں بھی ”غنم“ کا طلاق بھیڑ اور بکری دونوں پر ہوا ہے۔ ( )
نیز عرب کا عمومی ماحول بھی یہی تھا کہ بکریوں کے ساتھ بھیڑوں کو بھی پالا اور چرایا جاتا تھا۔ اس لیے مذکورہ حدیث مبارک سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیڑ اور بکریاں دونوں چرانا ثابت ہوتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
© Copyright 2025, All Rights Reserved