- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
خدمت اقدس میں عرض یہ ہے کہ ایک شخص کی اپنی بیوی سے کسی بات کو لے کر بحث ہو جاتی ہے۔ دورانِ بحث وہ شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ اب الجھن یہ پیش آتی ہے کہ شوہر کہتا ہے کہ میں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاق اکٹھی دی ہے جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے دو طلاقیں دی ہیں۔ لڑکے کی ماں جو بحث کے دوران موجود تھیں ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ اس نے دو طلاقیں دی ہیں لیکن شوہر اپنی بات پر قائم ہے کہ میں نے تین طلاق ہی دی ہیں۔یہاں شریعت ہماری کیا رہنمائی فرماتی ہے؟برائے کرم رہنمائی فرمائیں! لڑکی کچھ ماہ کی حاملہ بھی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر خاوند کو اقرار ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں تو خاوند کی بات ہی معتبر ہو گی۔ اس کا حکم یہ ہے کہ شرعاً تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور بیوی اپنے خاوند پر بالکل حرام ہو چکی ہے۔ اب دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں۔ عدت گزار کر یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہیں۔واضح رہے کہ اس صورت میں بیوی اور خاوند کی والدہ کی بات کا اعتبار نہ ہو گا۔علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی حنفی رحمہ اللہ (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً. ( )ترجمہ: خاوند اگر طلاق کا اقرار کرے ؛چاہے جھوٹ بولے یا مذاق میں کہے تو قضاء طلاق واقع ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved