- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں قرآن کریم کو خلافِ ترتیب پڑھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ۔ لیکن عموماً تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر ایسا ہوتا ہے کہ انیسویں رکعت میں سورۃ ناس اور بیسویں رکعت میں سورۃ البقرہ کے پہلے رکوع تک پڑھتے ہیں تو کیا یہ صورت مکروہ ہوگی جبکہ اس میں خلافِ ترتیب ہونا معلوم ہورہا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں خلاف ترتیب نہیں پڑھاجاتا بلکہ حافظ قرآ ن تراویح میں ایک ترتیب سے پڑھتا ہے اور جب اختتام ہوتا ہے تو وہ دوبارہ شروع سے پڑھنا شروع کرتا ہے۔
قرآن کریم ختم کرنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ سورۃ الناس پڑھنے کے بعد پھر سورۂ بقرہ کے شروع کی پانچ آیتیں مفلحون تک پڑھ لی جائیں ۔اسی طرح تراویح میں ختم قرآن کا مستحب طریقہ بھی یہی ہے کہ انیسویں رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورہ فلق و سورہ ناس پڑھے اور بیسویں رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ مفلحون تک پڑھے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ قِيلَ وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ قَالَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ۔
(مسند الدارمی۔ کتاب فضائل القرآن، رقم الحدیث:3476)
ترجمہ:
حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا گیا کہ کو ن سا عمل افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ الحال اور المرتحل سوال کیا گیا کہ الحال المرتحل کیا ہے آپ نے فرمایا کہ صاحب قرآن شروع سے آخر تک قرآن پڑھے پھر شروع سے آخر تک پڑھےجب ختم ہو پھر شروع کر دے قرآن کریم ختم کرکے پھر شروع کردے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ختم قرآن کے وقت ایسا پڑھنا یہ خلاف ترتیب نہیں ہے بلکہ مسنون اور مستحب ہے
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved