- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
بعض علاقوں میں یہ دستور ہے کہ لڑکی کی شادی قرآنِ کریم سے کر دیتے ہیں، اس عمل کے ذریعے لڑکی کو مجبوراً پابند بنادیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بقیہ تمام زندگی قرآن کریم پڑھتے ہوئے گزارے ، اور وہ مرتے دم تک کسی انسان کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی۔ شریعت کی روشنی میں اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
لڑکی کی شادی قرآن کریم کے ساتھ کرنا غیر انسانی، غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکت ہے، شریعت میں اس عمل کی قطعاً گنجائش نہیں۔ یہ قبیح اور شرم ناک رسم ان پست ذہن لوگوں ایجاد ہے جو بیٹیوں کے وجود کو بوجھ سمجھتے ہیں، ان کے بیاہ کو معیوب تصور کرتے ہیں اور ان کو جائیداد میں سے حصہ دینے کے حق میں نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ ایسے پست ذہن لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved